مودی جی کے اقتدار پر 4399 دن اکثر لٹیروں کا ایک ہی ریاست سے تعلق!

   

عامر علی خاں
عہدہ وزارت عظمی پر نریندر مودی نے 4399 دن مکمل کر لئے اس طرح انہوں نے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈی جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑ دیا مودی جی اور ان کے بھکت فخریہ طور پر پنڈت جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑنے کی بات کر رہے ہیں ویسے بھی ہر ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہی بنتا ہے،جو عظیم شخصیتیں ہوتی ہیں وہ ریکارڈز پر ریکارڈز قائم کرتی ہیں لیکن کبھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوتی بلکہ ہر صورت میں اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتی ہیں، ایک بات ضرور ہے کہ جس کے مقدر میں جو ہوتا ہے ، اسے وہ مل کر رہتا ہے۔ ہر چیز مقدر کی بات ہوتی ہے شکیل بدایونی نے اس سلسلے میں کیا خوب کہا ہے۔
اب کس کو کیا ملا یہ مقدر کی بات ہے
مودی جی کے 12 سالہ اقتدار میں ہندوستان کو کیا ملا عوام کو کیا ملا یہ سب جانتے ہیں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ کوا کتنا ہی پکار لے وہ بلبل کی سریلی اواز کا مقابلہ نہیں کر سکتا اگر دیکھا جائے تو ہندوستان میں زندگی کے ہر شعبے خاص کر زرعی شعبے میں ترقی کی بنیاد اگر کسی نے رکھی تو وہ پنڈت جواہل لال نہرو تھے ایسے میں بنیاد سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے بنیاد اپنی جگہ عمارت اپنی جگہ اور عمارت کو کھوکھلا کرنے والے بھی اپنی جگہ ہے اپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر اسلامو فوبیا اور اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح جس ناپاک سازش کے تحت منظر عام پر لائی گئی تھی اس دوران یہ بھی کہا جانے لگا تھا کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے ان اصطلاحات کا ایڈانی جیسے بی جے پی کے قد آور لیڈروں نے بھی استعمال کیا لیکن جہاں تک ملک کی سرکاری و خانگی بینکوں کو ہزاروں کروڑ روپیوں کا چونا لگا کر فرار ہونے والوں کا سوال ہے ان کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر لٹیرا ایک مخصوص ریاست سے تعلق نہیں رکھتا لیکن ہر لٹیرہ کا تعلق اس علاقے سے ہوتا ہے (عقلمند کو اشارہ کافی) دماغوں میں گوبر رکھنے والے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے لیکن جن لوگوں کو اپنے ملک کی فکر دامن گیر رہتی ہے وہ ہماری مذکور ہ بات بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ مودی جی 2014 سے اب تک ہندوستان کی دولت کو لوٹنے والے لٹیروں اور بھگوڑوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اگر اسلامی سزاؤں پر عمل کیا جاتا تو کوئی لٹیرا نہیں بنتا ۔بہرحال ہندوستان کو اربوں ڈالرس کا چونا لگاکر ملک سے راہ فرار اختیار کرنے والے بھگوڑوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان سے فرار اختیار کرنے والے ان بھگوڑوں و اقتصادی جرائم کا ارتکاب کرنے والے ان مجرمین نے بڑی آسانی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ملکوں کی شہریت حاصل کرلی یا ٹیکس سے پاک ممالک میں پرتعیش زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ان بھگوڑوں نے دراصل ہمارے ملک کے اقتصادی نظام اور قانونی نظام یا نظام عدلیہ میں پائی جانے والی خامیوں کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ حال ہی میں بلجیم کی پولیس نے میہول چوکسی کو گرفتار کیا۔ اس کی گرفتاری نے 13,500 کروڑ روپئے والے پنجاب نیشنل بینک اسکام میں اس کے کردار کو پوری طرح بے نقاب کرکے رکھ دیا۔ ہندوستان کی دولت لوٹ کر فرار ہونے والے بھگوڑوں کی مشترکہ خاصیت یہ ہے کہ ان لوگوں نے جن ملکوں میں پناہ لے رکھی ہے اور عیاشی کررہے ہیں وہاں سے انھیں ملک بدر کرنے میں نظام عدلیہ یا قانون میں جو غلطیاں ہیں وہ رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ چوکسی کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ ہندوستانی حکام اسے ملک واپس لانے میں چند قدم ہی دور تھے۔ فی الوقت وہ بلجیم پولیس کی حراست میں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کچھ یوں کہا : جیسا کہ آپ جانتے ہیں چوکسی کی ہندوستان کو حوالگی یا ملک بدری کی درخواست کی بنیاد پر چوکسی کو بلجیم میں گرفتار کیا گیا اور ہم بلجیم حکام کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں تاکہ میہول چوکسی کو ہندوستان واپس لاکر مقدمہ کا سامنا کروایا جائے۔ گیتانجلی گروپ کا سابق صدرنشین میہول چوکسی اور اس کے بھتیجے نیرو مودی نے پنجاب نیشنل بینک سے دھوکہ دہی کے ذریعہ ایل او یوز (لیٹرس آف انڈر اسٹینڈنگ) حاصل کرنے پی این بی عہدیداروں کے ساتھ ساز باز کی اور مناسب ضمانت اور دستاویزات فراہم کے بناء eOUS حاصل کرلیا۔ میہول چوکسی فی الوقت اینٹی گوا کا شہری ہے۔ اس نے 2018ء سے قبل مالی اسکام کے منظر عام پر آنے سے قبل ہندوستان سے راہ فرار اختیار کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے نومبر 2023ء میں بلجیم کا ریسیڈنسی پرمٹ بھی حاصل کرلیا۔ پچھلے ہفتہ اسے ANTWERP میں واقع اس کے گھر کے قریب سے گرفتار کیا گیا جبکہ میہول چوکسی کے بھتیجہ نیرو مودی کو مارچ 2019ء میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور فی الوقت وہ لندن کی ویسٹ منسٹر جیل میں قید ہے۔ اس کی ہندوستان حوالگی کا منصوبہ ہے لیکن نیرو مودی نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ اب چلتے ہیں ہندوستان میں شراب کے تاجر کی حیثیت سے اپنی علیحدہ شناخت بنانے والے وجئے مالیہ کی طرف جس نے عیاشی اور مہنگی ترین دعوتوں کے معاملہ میں شہرت حاصل کی لیکن ہندوستان کو ہزاروں کروڑ روپئے کا چونا لگاکر 2016ء میں ہندوستان سے فرار ہوگیا۔ اس کی فراری میں کس نے مدد کی اس بارے میں میڈیا رپورٹس کے بموجب بی جے پی کے سابق مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو وجئے مالیہ نے اپنا مددگار بنایا۔ وہ کنگ فشر جیسی ایرلائنز کا مالک بھی تھا اور یہ ایرلائنز بھی کئی ایک قانونی تنازعات کا شکار بنی ہوئی ہے۔ وجئے مالیہ کو ہندوستان میں بھگوڑا قرار دیا گیا ہے۔ وہ ہندوستانی نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے ساتھ مقدمہ بازی میں مصروف ہے۔ ہندوستانی حکام اسے واپس لانا چاہتے ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ بینکوں نے اس سے واجب الادا تمام رقم وصول کرلی ہے۔ مالیہ پر منی لانڈرنگ اور ہندوستانی بینکوں کو 9000 کروڑ روپئے سے زائد کا چونا لگانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ مالیہ کی کنگ فشر نے بینکوں سے 6200 کروڑ روپئے کا قرض لیا تھا جبکہ بینکوں نے اس سے کہیں زیادہ رقم وصول کرلی۔ ریکوری آفیسر نے 10,200 کروڑ روپئے Recover کرنے کی بات کہی جبکہ مرکزی وزیر فینانس کا پارلیمنٹ میں کہنا تھا کہ 14 ہزار کروڑ روپئے وصول کئے گئے۔ واضح رہے کہ بھگوڑوں میں آئی پی ایل کے بانی للت مودی بھی نمایاں ہیں۔ اربوں ڈالرس کی آمدنی پیدا کرنے والے انڈین پریمیئر لیگ کے قیام کے پیچھے للت مودی کا ذہن کارفرما تھا۔ آئی پی ایل سربراہ کے طور پر اپنی میعاد میں ان کے خلاف مالی بے قاعدگیوں کے سنگین الزامات عائد کئے گئے۔ للت مودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آئی پی ایل میں بے قاعدگیوں کے ذریعہ 125 کروڑ روپئے کمائے۔ للت مودی 2010ء میں ہندوستان سے فرار ہوا۔ فی الوقت وہ لندن میں مقیم ہے۔ گزشتہ ماہ جزیرہ VANVATA کی ان کی شہریت چھین لی گئی۔ اس نے لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کو اپنا پاسپورٹ حوالے کرنے کی درخواست دینے سے پہلے ہی مذکورہ جزیرہ کی شہریت حاصل کرلی تھی۔ تاہم وہاں کے وزیراعظم نے للت مودی کے VANVATA پاسپورٹ کی منسوخی کا حکم دیا۔ اس الزام کے تحت کہ للت مودی ان کے ملک کے پاسپورٹ کا بیجا استعمال کررہا ہے، اگر معاشی جرائم اور ہندوستان کے ہزاروں کروڑ روپئے لوٹ کر راہ فرار اختیار کرنے والے ایسے بھگوڑوں جنھوں نے بیرونی ملکوں میں اپنے ٹھکانے بنالئے ہیں، ان کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ڈسمبر 2021ء میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ کم از کم 33 افراد کے خلاف سی بی آئی نے بینکوں کو ہزاروں روپیوں کا دھوکہ دینے کے معاملہ میں مقدمہ درج کیا ہے جن میں وجئے مالیہ، نیرو مودی، میہول چوکسی، للت مودی، نتن جے سندیسرا، دپتی چیتن کمار سندیسرا اور سنجے بھنڈاری شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس چوروں اور معاشی جرائم میں ملوث بھگوڑوں کا ترجیحی ملک برطانیہ رہا ہے۔ ان مجرمین کی حوالگی سے متعلق درخواستوں کے باوجود یہ تمام کے تمام وہاں کی قانونی کمزوریوں اور انصاف میں تاخیر سے فائدہ اُٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں جیتن مہتا کو بھی معاشی مجرم قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جتن مہتا نے اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ مل کر قرض کی شکل میں ایک ارب ڈالرس حاصل کئے اور اس کے لئے دھاندلیوں کا ارتکاب کیا اور سینٹ کٹس اینڈ نیویز جزیرہ کی شہریت حاصل کی جس کے ساتھ ہندوستان کا معاہدہ حوالگی مجرمین نہیں ہے۔ سندر پسرا برادران جو گجرات سے تعلق رکھتے ہیں 2017ء میں مختلف بینکوں کو دھوکہ دے کر راہ فرار اختیار کی۔ ان لوگوں نے مختلف سرکاری بینکوں سے 17 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا تھا، فی الوقت نائجیریا میں مقیم ہیں۔ یہ لوگ خام تیل کی پیداوار میں کئی ڈالر مالیتی پراجکٹ میں نائجیریا کے سرکاری شراکت دار ہیں۔ نائجیریا کے سیاسی طبقہ میں یہ دونوں بھائی کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ حکومت نائجیریا نے ان کی حوالگی سے متعلق ہندوستان کی درخواست مسترد کردی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان بھائیوں کی کمپنی اسٹرلنگ بائیو ٹیک ممبئی میں ہنوز کررہی ہے۔ دھوکہ بازوں کی فہرست میں حالیہ عرصہ کے دوران ایک اور نام شامل ہوا ہے اور وہ ہے راجیش مہتاجو جویلری کمپنی راجیش اسپورٹس کا مالک ہے اس کا خاندان گجرات سے بنگلور منتقل ہوا تھا ۔ راجیش مہتا کو مودی کا دوست کہا جاتا ہے ۔ اس کی کمپنی پر 15.2 لاکھ کروڑ روپئے کی ہیرا پھیری کا الزام ہے ۔ بہرحال مودی جی کے 4399 دنوں کے اقتدار میں لٹیروں کی چاندی ہی چاندی ہوگئی۔