بجٹ میں چار گنا اضافہ، مخالفین کو نشانہ بنانے کے الزامات، اختیارات بھی بڑھ گئے
حیدرآباد۔/11 اگسٹ، ( سیاست نیوز) فلاحی اسکیمات کی عمل آوری میں لاپرواہی اور غفلت کرنے والی مرکزی حکومت ان اسکیمات کے بجٹ میں ہر سال کٹوتی کررہی ہے۔ تاہم اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے تحقیقاتی ایجنسیوں کو پانی کی طرح کروڑہا روپئے جاری کررہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سالانہ 2 کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اپنے 8 سالہ دور حکومت میں 10 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ( ای ڈی ) کو طلب کے مطابق ملازمتیں اور فنڈز دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں ای ڈی کی سرگرمیاں بہت زیادہ متنازعہ بن گئی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سال 2014 کے بعد مرکزی حکومت نے ای ڈی کے بجٹ میں چار گنا اضافہ کردیا۔ مالیاتی سال 2020-21 میں 265.80 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جس کو سال 2021-22 میں بڑھا کر 311.49 کروڑ روپئے کردیا گیا۔ جاریہ مالیاتی سال اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے 357.57 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے ساتھ ہی ملازمین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی میں نو تعمیر شدہ پریورتن بھون میں ایک جدید ترین دفتر قائم کیا گیا۔ اپنے حامی عہدیدار سنجے کمار مشرا کی خدمات میں توسیع دیتے ہوئے برقرار رکھا گیا ہے۔ ملازمین میں ریوینو، انٹلی جنس کے ماہرین اور مختلف پیشہ ورانہ افراد کو تعینات کیا گیا ہے۔ پی ایم ایل اے کے بشمول 32 دیگر قوانین کا استعمال کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے جس کو ای ڈی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ ماضی میں ای ڈی کو آزادانہ فیصلے کرنے کے اختیارات نہیں تھے۔ اب انہیں کب اور کہاں کس کو نشانہ بنانا ہے اس کی ہدایت پہلے سے وصول ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ن