سبسیڈی 37 ہزار کروڑ سے گھٹ کر 1811 کروڑ تک محدود ، 7 مرتبہ قیمتوں میں اضافہ
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت مرکزی حکومت نے گذشتہ 4 سال کے دوران جہاں پکوان گیاس کی قیمتوں میں 56 فیصد کا اضافہ کیا ہے ۔ وہی پکوان گیاس پر دی جانے والی سبسیڈی کو 37 ہزار کروڑ سے گھٹا کر 1,811 کروڑ روپئے محدود کردیا ۔ ان چار سال کے دوران پکوان گیس کی قیمتوں میں 7 مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زیر قیادت یو پی اے دور حکومت 2014 میں پکوان گیس کی قیمت فی سیلنڈر 410 روپئے تھی مودی کے 8 سالہ دور حکومت میں بڑھ کر 1155 روپئے تک پہونچ گئی ۔ مودی کے دور حکومت میں پکوان گیس کی قیمتیں آسمان کو پہونچ چکی ہے ۔ وہی سبسیڈی کو ختم کرتے ہوئے زمین پر لاکر رکھ دیا گیا ہے ۔ یکم مارچ سے پکوان گیس کی قیمتوں میں 50 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ مودی کے دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد پکوان گیس کی قیمتوں میں تقریبا 56 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ سال 2018-19 میں پکوان گیس پر مرکزی حکومت کی جانب سے 37 ہزار کروڑ روپئے کی سبسیڈی دی جاتی تھی جس کو سال 2019-20 میں گھٹا کر 24 ہزار کروڑ روپئے کردیا گیا ۔ پھر سال 2020-21 میں گھٹا کر 12 ہزار کروڑ روپئے کیا گیا ۔ سال 2021-22 میں مزید گھٹا کر 1811 کروڑ روپئے محدود کردیا ۔ ان چار سال کے دوران مرکزی حکومت نے ہر سال پکوان گیس کی قیمت میں اضافہ کیا ہے ۔ سال 2019 میں پکوان گیس کی قیمت 701 روپئے سال 2020 میں بڑھ کر 746 روپئے سال 2021 میں دو مرتبہ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ۔ اس سال فروری میں 821 روپئے اکٹوبر میں 925 روپئے تک پہونچ گئی ۔ گذشتہ سال کئی مرتبہ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے اپریل میں 1002 روپئے مئی میں 1055 روپئے جولائی میں 1105 روپئے ہوگئی تھی ۔ یکم مارچ کو 50 روپئے کے اضافہ کے ساتھ قیمت بڑھ کر 1155 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔۔ ن