موسم گرما کی شدت، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ،ماہر اطباء میں تشویش، امراض تنفس سے صحت متاثر

   

حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں موسم گرما کی شدت اور ماحولیاتی آلودگی میں ہونے والا اضافہ ماہر اطباء کو تشویش میں مبتلاء کئے ہوئے ہے کیونکہ شہر حیدرآباد وسکندرآباد انتہائی خشک موسم کے دوران درجہ حرارت میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں ریکارڈ کیا جانے والا اضافہ امراض تنفس کے مریضوں کے لئے تشویش میں مبتلاء کرنے کا سب بن سکتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں درجہ حرارت میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ہوا کے معیار میں ریکارڈ کی جانے والی خرابی انسانی صحت کے انتہائی مضر ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں AQI کی سطح 145 سے زیادہ ریکارڈ کی جانے لگی ہے جو کہ پھیپڑوں سے متعلق امراض کا سبب بننے کے لئے کافی ہے اور آب و ہوا کے معیار میں بہتری نہ آنے اور موسم کے خشک ہونے کے نتیجہ میں پھیپڑوں پر اس کے مضر اثرات میں اضافہ ریکارڈ کیاجانے لگتا ہے ۔محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں 14 فروری کو درجہ حرارت 32تا35 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیاگیا جبکہ درجہ حرارت کی شدت میں آئندہ دنوں کے دوران مزید اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں بالخصوص ٹریفک والے مقامات پر AQI کی سطح میں ریکارڈ کیا جانے والا اضافہ ماہرین کے لئے تشویش کا سبب بنتا جار ہاہے۔ شہر حیدرآباد کے علاقوں پنجہ گٹہ ‘ اپل‘ جیڈی میٹلہ ‘ کوکٹ پلی ‘ کے علاوہ اطراف وا کناف کے علاقوں میں AQIکی سطح 160 سے تجاوز کرنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور ان مسائل سے نمٹنے کے لئے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئے تاکہ شہر حیدرآبا د میں موسم گرما کی شدت کے دوران ماحولیاتی آلودگی میں ہونے والے اضافہ کو روکنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ ماہرین موسمیات کا کہناہے کہ موسم گرما کی شدت میں ہونے والے اضافہ سے متعلق محکمہ کے ماہرین نے پیش قیاسی کردی ہے اس کے علاوہ شہر میں ماحولیاتی آلودگی میں ہونے والے اضافہ سے بھی واقف کروایا جاچکا ہے اور اب شہریوں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت میں ہونے والے اضافہ سے محفوظ رہنے کے اقدامات کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط تیار کرتے ہوئے عوام میں شعور اجاگر کرے تاکہ صحت عامہ کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔3