حیدرآباد ۔ یکم ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد میں موسیٰ ریور فرنٹ کی بحالی کا منصوبہ اس علاقہ کو متحرک سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے ۔ موسیٰ پراجکٹ کے ذریعہ ایک صدی قبل کئے گئے تبدیلی کے کام کی یاد تازہ کرتا ہے ۔ 28 ستمبر 1908 کے تباہ کن سیلاب کے بعد حیدرآباد نظام میر عثمان علی خاں نے شہر کی تعمیر نو اور نئی شکل دینے کے لیے سٹی امپروومنٹ بورڈ قائم کیا تھا اس کوشش کا مقصد نہ صرف جسمانی نقصان کو ٹھیک کرنا تھا بلکہ شہری بھیڑ صحت عامہ کے مسائل اور صفائی کے مسائل کو بھی حل کرنا تھا ۔ خاص طور پر سیلاب کے بعد پھیلنے والی وباء کی روک تھام کرنا تھا ۔ موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ اس وراثت کی بازگشت کرتا ہے ۔ سروے ٹیمیں مکانات کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کررہی ہیں ۔ چادر گھاٹ اور یاقوت پورہ جیسے علاقوں میں دریا کے کنارے ، مقصد ان علاقوں پر دوبارہ انہیں متحرک شہری جگہوں میں تبدیل کرنا ہے ۔ جو پارکس ، سائیکل ٹریکس اور تفریحی زونس کے ساتھ مکمل ہوئے ۔ پراجکٹ کے ایک اہم عنصر میں متاثرہ خاندانوں کو پہلے سے تعمیر شدہ 2BHK یونٹوں میں منتقل کرنا شامل ہے جو کہ 20 ویں صدی کے اوائل میں سٹی امپروومنٹ بورڈ کے بے گھر خاندانوں کی دوبارہ آباد کاری کے ماڈل کی طرح تھا ۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر انہدام دونوں اقدامات کا حصہ ہیں ۔ نظام دور کے منصوبے نے شہر کی تاریخی جوہر کو محفوظ رکھا ۔ تلنگانہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ شہر کے شہری کردار کو نئے سرے سے متعین کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ جو کھلی جگہوں اور عوامی علاقوں کی تخلیق کارتا ہے جو کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔۔ ش