حکومت غیر سنجیدہ اور عہدیداروں کی عدم دلچسپی
حیدرآباد 2 جنوری(سیاست نیوز) حکومت اور عہدیداروں کی مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ سے عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے دونوں ہی عبادتگاہوں کے متعلق کئے گئے اعلانات پر عمل آوری کے معاملہ میں عہدیدار قطعی سنجیدہ نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ان دونوں عبادتگاہوں کے امور کو بہتر بنانے سے کوئی دلچسپی ہے۔ڈی ایم ڈبلیو او حیدرآباد سے مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے امور کے متعلق دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ وہ ایک مہینہ قبل اپنے عہدہ کا جائزلئے ہیں اسی لئے وہ ان امور سے واقف نہیں ہیں جبکہ ڈائرکٹر مائیناریٹی ویلفیر اور مشیر حکومت برائے اقلیتی امور متعدد مرتبہ تاریخی مکہ مسجد کے تزئین نو اور آہک پاشی کے کاموں کو جلد مکمل کرلئے جانے کے اعلانات کرچکے ہیں لیکن اب اگر کوئی مکہ مسجد کی عمارت کا مشاہدہ کرے تو پتہ چلے گا کہ مسجد کی آہک پاشی اور تزئین نو کے نام پر کام جاری ہیں لیکن مسجد پر دوبارہ خودرو پودے اگنے لگے ہیں جو کہ مسجد کی عمارت کیلئے خطرہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے 25کروڑ کی لاگت سے ریاست کی 6منادر کی تزئین نو اور آہک پاشی کے علاوہ ترقیاتی امور کی انجام دہی کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کیلئے خصوصی بجٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بھی اگر حکومت سے نمائندگی کی جاتی اور محکمہ کے تحت عبادتگاہوں کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی فنڈس طلب کئے جاتے ہیں تو ان کی اجرائی سے حکومت انکار نہیں کریگی لیکن اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے والوں کی جانب سے حکومت کو ایسی کوئی تجاویز پیش نہیں جاتیں جس کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کی کارکردگی ہمیشہ ہی منفی ریکارڈ کی جاتی رہی ہے۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں کوئی عارضی یا مستقل ملازم نہ ہونے کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ واقف کروائے جانے کے باوجود اس تاریخی مسجد میں کوئی تقرر نہ کئے جانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار کس حد تک مساجد کے امور کو بہتر انداز میں انجام دینے کیلئے تیار ہیں ! محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی کے باوجود حکومت کی خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود چاہتی ہے کہ اقلیتی بہبود میں ایسے عہدیدار خدمات رہیں جو کہ اقلیتی اداروں کے ساتھ ناانصافیوں پر خاموش تماشائی بنے رہیں یا پھر اداروں کی تباہی میں حکومت کا تعاون کریں۔ حکومت کی جانب سے مکہ مسجد کے کاموں کی عاجلانہ تکمیل میں تاخیر کے متعلق استفسار پر کہا جا رہاہے کہ بجٹ کی قلت سے یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اور کاموں کو جلد مکمل کرنے میں دشواریاں ہیں۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں عملہ کی قلت اور نئے تقررات پر دریافت کرنے پر بھی کہا جا رہاہے کہ بجٹ نہ ہونے کے سبب کی جانب سے نئے تقررات میں احکام جاری کرنے سے گریز کیا جا رہاہے ۔ دونوں ہی مساجد کے امور کی نگرانی اور انہیں بہتر بنانے سے اگرمحکمہ اقلیتی بہبود‘ ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود اور ڈی ایم ڈبلیو قاصر ہیں تو وہ اس بات کا اعلان کردیں کیونکہ دونوں ہی مساجد کے مصلیان اپنی کمیٹی بناکر مساجد کے امور کو بہتر بنانے تیار ہیں اور اس مقصد کیلئے دونوں مساجد کے مصلیان کی جانب سے ایک سے زائد مرتبہ چندہ جمع کرنے کی پیشکش بھی کی جاچکی ہے لیکن مساجد کے امور محکمہ اقلیتی بہبود کے سپرد ہونے کے سبب وہ ایسا کرنے کی بجائے حکومت کو متوجہ کروانے کی کوشش کرچکے ہیں لیکن اب حالات مزید ابتر ہونے لگے ہیں۔م