مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقہ پر شدید اقتصادی بوجھ:کانگریس

   

نئی دہلی، یکم ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت ہر ہفتے مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور اس کا اثر اب صرف رسوئی تک محدود نہیں رہا، بلکہ گھر بنانے سے لے کر بجلی کے سامان تک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ جعلی ہیڈ لائنز میں مصروف وزیرِ اعظم نریندر مودی نے عام آدمی کے گھر بنانے کا خواب بھی چھین لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تانبے کا تار 850 روپے سے بڑھ کر 1,700 روپے فی کلوگرام اور ایلومینیم 350 روپے سے بڑھ کر 650 روپے فی کلوگرام ہو گیا ہے ۔ اس کے باعث 1,000 مربع فٹ کے مکان کی وائرنگ کا خرچ 50,000 روپے سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ روپے ہو گیا ہے ۔ رمیش نے کہا کہ سولر پینل 10 سے 15 فیصد مہنگے ہو گئے ہیں۔ پنکھے اور فالس سیلنگ کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ پریس جیسے گھریلو سامان کی قیمتوں میں 20 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے ، جبکہ ایل ای ڈی اور ہیلوجن کی قیمتوں میں بھی تقریباً 20 فیصد کا اچھال آیا ہے ۔ سوئچ ساکیٹ، مین لائن کیبل، ٹائلز، وائرنگ اور مزدوری سمیت گھر بنانے سے جڑا ہر خرچ بڑھ رہا ہے ۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری نے الزام لگایا کہ مہنگائی ہر طرف سے عوام کی جیب پر اثر ڈال رہی ہے۔

خواتین کیلئے دہلی ۔ این سی آرانتہائی غیر محفوظ :راہول
نئی دہلی، یکم ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ قومی دارالحکومت دہلی اور این سی آر خواتین کیلئے اس قدر غیر محفوظ ہو چکا ہے کہ ایک نابالغ بچی کے ساتھ 45 کلومیٹر تک چلتی سلیپر بس میں اجتماعی عصمت دری ہوتی ہے لیکن بے روک ٹوک چل رہی بس کی کہیں کوئی جانچ نہیں ہوتی۔ راہول گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ یہ واقعہ گریٹر نوئیڈا سے دہلی تک پیش آیا۔ حیرانی کی بات ہے کہ پوری دہلی یا نوئیڈا پولیس کو اس کی بھنک تک نہیں لگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بس نوئیڈا-گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے ، دہلی کی رنگ روڈ سرحد سے گزر گئی لیکن اسے ایک بھی جانچ چوکی پر نہیں روکا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ بس کی نشستوں پر پردے لگے تھے ، تاکہ اندر کیا ہو رہا ہے ، کوئی دیکھ نہ سکے اور مجرموں میں انتظامیہ کا کوئی خوف بھی نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ نربھیا واقعے کے بعد اتنے سال اور اتنے واقعات کے باوجود ایسی بسوں کی جانچ اور نگرانی کے ضابطہ پر عمل کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردے صرف اس بس میں نہیں ڈالے گئے تھے ، بلکہ سال بہ سال حکومت کی جانب سے انتظامیہ کی ناکامیوں پر ڈالے گئے پردوں کا نتیجہ ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں بھی خواتین محفوظ سفر نہیں کر سکتیں۔