نظام آباد 17 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، اے سی بی نظام آباد چندرا شیکھر گوڑ کے مطابق اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں نے تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں واقع 13 می سیوا مراکز پر اچانک دھاوا کرتے ہوئے سرپرائز چیکس انجام دیے، جن میں حیدرآباد، نظام آباد، سنگاریڈی، سوریاپیٹ، ورنگل، کھمم، محبوب نگر اور منچریال کے مراکز شامل ہیں۔کارروائی کے دوران متعدد بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا۔ ضلع نظام آباد میں جاری می سیوا مراکز کے نظام میں بے قاعدگیوں اور زائد وصولیوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ضلع بھر میں تقریباً 325 می سیوا مراکز کے ذریعہ 580 اقسام کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں روزانہ کم از کم 16 ہزار لین دین انجام پاتے ہیں۔ تاہم شکایات کے مطابق درخواست گزاروں سے مقررہ فیس کے علاوہ زائد رقم وصول کی جا رہی ہے، خصوصاً پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس کے لیے سینکڑوں روپے اضافی لیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یکم اپریل سے خدمات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، مگر کئی مراکز پر نئے نرخوں کی فہرست آویزاں نہیں کی گئی، جس کے باعث عوام کو من مانی رقم ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مختلف خدمات کے لیے 150 سے 300 روپے تک اضافی وصولی عام ہے۔ بعض مقامات پر آدھار تفصیلات کی تصحیح کے لیے بھی 100 تا 200 روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔اسی دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ضلع میں متعدد می سیوا مراکز بنامی افراد کے زیر انتظام چل رہے ہیں، جہاں لائسنس کسی اور کے نام پر جبکہ عمل آوری کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ بعض مراکز میں دلالوں کی مداخلت بڑھ گئی ہے جو راشن کارڈ اور دیگر دستاویزات کے نام پر عوام کو گمراہ کرتے ہوئے ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس اور ٹرانسپورٹ سلاٹ بکنگ جیسے امور کو بھی بعض عناصر نے کاروبار بنا لیا ہے۔ان شکایات کے پیش نظر ریاست گیر مہم کے تحت اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے عہدیداروں نے نظام آباد میں دو دن تک مختلف مراکز کا معائنہ کیا، جن میں شیو جی چوک کا مرکز بھی شامل ہے۔ اے سی بی ڈی ایس پی شیکھر گوڑ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ زائد وصولیوں یا بے قاعدگیوں کی صورت میں اے سی بی دفتر یا فون نمبر 9440446106 پر شکایت درج کروائیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔