میر عالم تالاب ‘ کبھی پینے کیلئے پانی کا ذریعہ تھا ‘ آج پانی ناقابل استعمال

   

اطراف میں کچرے کے انبار ۔ بدبو اور تعفن سے مقامی افراد کی صحت کیلئے مسائل
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : شہر کے علاقہ بہادر پورہ کے قریب میر عالم تالاب واقع ہے جس کو قطب شاہی دور میں قائم کیا گیا تھا ۔ آصف جاہی دور کے تیسرے نظام میر اکبر علی خاں بہادر سکندر جاہ کے وزیر اعظم میر عالم بہادر نے 1804 میں وسیع و عریض کیا اور ان کے دور میں بننے کی وجہ سے اس کو میر عالم تالاب کہا گیا جو حیدرآبادی عوام کو پینے کا پانی سربراہ کرنے تعمیر کروایا گیا تھا جو سال 2000 تک بھی کارآمد تھا ۔ میر عالم تالاب کو تقریبا 600 ایکڑ اراضی پر بنایا گیا تھا اور یہ آہستہ آہستہ چھوٹا ہوتا چلا گیا ۔ 220 سالہ قدیم تاریخی تالاب جو بہادر پورہ ، کشن باغ ، عطا پور ، حیدرگوڑہ اور حسن نگر ، راجندر نگر کے اطراف محیط ہے جو بنیادی طور پر مختلف ندیوں سے جڑا ہوا تھا ۔ نظام کے دور میں تعمیر کردہ تاریخی تالاب آج آلودہ پانی میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ تالاب میں عدم صفائی کی وجہ سے پانی میں کچرے کے انبار پڑے ہیں جس کی وجہ سے مچھروں کی افزائش ہورہی ہیں جو تالاب کے اطراف مکینوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے ۔ میر عالم تالاب کا پانی نہرو زوالوجیکل پارک میں جانوروں کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ 20 جولائی 1804 میں تیسرے نظام کے وزیراعظم میر عالم نے اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس کی وجہ سے اس تالاب کو میر عالم تالاب قرار دیا گیا ۔ تالاب کا تعمیری پلان فرنچ انجینئر کمپنی کے مائیکل جو چم میری رجمنڈ نے تیار کیا تھا ۔ میر عالم تالاب جو پینے کے پانی کیلئے تیار کیا گیا تھا آج آلودہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پانی انسانوں کے استعمال کے لائق نہیں رہا ۔ میر عالم تالاب میں اکثر مگرمچھ دیکھے گئے اور سانپ بھی دکھائی دئیے جس کی وجہ سے اطراف کے مکینوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ ش