اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال کیا گیا ، کئی دیگر سیاسی قائدین بھی نشانہ ، کانگریس لیڈر کی تقریر
لندن : کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسیس کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ان کے فون کی ٹیاپنگ کی گئی بلکہ کئی دیگر سیاسی قائدین کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں جمہور یت سکڑتی جارہی ہے۔راہول نے انٹلیجنس آفیسرس کا حوالہ دیا جنہوں نے ان کو فون ٹیاپنگ کے بارے میں متنبہ کیا ۔ راہول یہاں کیمبرج یونیورسٹی میں لکچر دے رہے تھے ۔ ان کے لیکچر کی ویڈیو کلپ سام پٹروڈا نے ٹوئٹر پر شیئر کی ہے ۔ پٹروڈا سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے مشیر رہ چکے ہیں ۔ راہول نے کیمبرج جج بزنس اسکول میں ایم بی اے اسٹوڈنٹس کو مخاطب کرتے ہوئے 21 ویں صدی میں سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کے موضوع پر خطاب کیا ۔ راہول نے ہندوستان میں اپوزیشن قائدین اور خود اپنے خلاف درج مقدمات کے بارے میں بھی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ایسی باتوں پر کئی فوجداری مقدمات دائر کئے جاچکے ہیں جو فوجداری زمرہ میں نہیں آنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ایسی ہی زیادتیوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہے ۔ گزشتہ سال پیگاسیس کو استعمال کرتے ہوئے جاسوسی کا تنازعہ زوروں پر رہا تھا جس میں حکومت کے خلاف اپوزیشن قائدین نے الزامات عائد کئے ۔ اس پر سپریم کورٹ کی مقررہ کمیٹی نے معاملہ کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسپائی ویئر ان 29 موبائیل فونس میں نہیں پایا گیا جو اسے سونپے گئے بلکہ 5 موبائیل فونس میں مالویر وائرس پایا گیا ۔ راہول گاندھی نے اپنے لکچر میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ ہندوستان میں پارلیمنٹ ، صحافت اور عدلیہ پر شدید دباؤ ہے ۔ ہر کوئی اس سے واقف ہے ۔ میں اپنے ملک میں اپوزیشن لیڈر ہوں ہم اپوزیشن کی آواز اٹھانے کیلئے کافی جدوجہد کررہے ہیں ۔ جمہوریت کیلئے جو ادارہ جاتی چوکھٹا ہونا چاہئیے ، وہ اب نہیں ہے ۔ اس طرح ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی ڈھانچہ پر حملہ کیا جارہا ہے ۔ کیرالا کے حلقہ کے نمائندے کانگریس ایم پی نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں جمہوریت کو زک پہنچے تو عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔