میزائل پروگرام امریکہ کیساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا

   

ایران کا دوٹوک اعلان، اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے بضد

تہران:18جون ( ایجنسیز ) ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام امریکہ کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل پروگرام قومی سلامتی کا اہم حصہ ہیں، اس لیے انہیں مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل کسی کے ساتھ بات چیت کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور استعمال کے لیے ہیں۔ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی مرحلے، کسی بھی عمل یا کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ پر اتفاق کر چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران طویل عرصے سے اپنے میزائل پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات معاملہ قرار دیتا آیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کے میزائل دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب امریکہ اور بعض مغربی ممالک ماضی میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اسے علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم موضوع قرار دیتے آئے ہیں۔اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے معاملے پر بضد ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے قریبی سینئر اسرائیلی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ سخت مذاکرات کر رہا ہے۔ سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں تعیناتی سے متعلق اسرائیل اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ایک مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جس میں لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اورایران کے اصرار پر متوقع جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، جہاں 2 مارچ کو حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی شروع کی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی کی گئی۔ماہرین کے مطابق لبنان میں جنگ بندی حزب اللہ کو سیاسی طور پر تقویت دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت پر جب اسے گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔