ممبئی 31 مارچ (یواین آئی ) مینا کماری برصغیر کی فلمی تاریخ کی ایک ایسی درخشاں اور درد بھری شخصیت تھیں جنہیں ٹریجڈی کوئین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کی زندگی جتنی کامیاب اور شاندار تھی، اتنی ہی دکھوں اور تنہائی سے بھرپور بھی رہی۔ مینا کماری کا اصل نام ماہ جبیں بانو تھا۔ وہ یکم اگست 1933کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد علی بخش موسیقار تھے جبکہ والدہ اقبال بیگم اسٹیج اداکارہ تھیں۔ ایک متوسط طبقے کے مسلم خاندان میں مینا کماری جب پیدا ہوئیں تو باپ علی بخش انہیں یتیم خانے چھوڑ آئے کیونکہ دو بیٹیوںکی پیدائش کے بعد اس بات کی دعا کررہے تھے کہ اللہ اس مرتبہ بیٹے کا منہ دکھادے تبھی انہیں بیٹی ہونے کی خبرآئی اور وہ بچی کوگھر نہ لے جاکر یتیم خانے چھوڑ آئے لیکن بعد میں ان کی بیوی کے آنسوؤں نے بچی کو یتیم خانے سے گھر لانے کے لئے مجبورکردیا۔مالی مشکلات کے باعث مینا کماری کو بچپن ہی میں فلموں میں کام کرنا پڑا۔ انہوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے کیریئر کا آغازکیا اور جلد ہی اپنی معصومیت اور اداکاری سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ سال1952 میں مینا کماری نے فلم سازکمال امروہی کے ساتھ شادی کر لی۔ مگر یہ رشتہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا اور دونوں کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئیں۔ ان کی نجی زندگی کے مسائل نے ان کی شخصیت اور صحت پرگہرا اثر ڈالا۔ کمال امروہی کی فلم پاکیزہ کی تخلیق میں تقریبا ًچودہ برس لگ گئے باوجودیکہ کمال امروہی سے الگ ہونے کے باوجود مینا کماری نے شوٹنگ جاری رکھی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پاکیزہ جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع بار بار نہیں مل پاتا ہے ۔ مینا کماری نہ صرف ایک عظیم اداکارہ تھیں بلکہ ایک اچھی شاعرہ بھی تھیں۔ انہوں نے نقش کے قلمی نام سے شاعری کی اور ان کے اشعار میں بھی وہی درد اور احساس جھلکتا ہے جو ان کی اداکاری میں نظر آتا ہے ۔مینا کماری کی ماں اقبال بانو نے ان کا نام ‘ماہ جبیںرکھا۔بچپن کے دنوں میں مینا کماری کی آنکھیں بہت چھوٹی تھیں اس لئے خاندان والے انہیں ‘چینی کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔ تقریبا ًچار سال کی عمر میں 1939 میں بطور چائلڈ آرٹسٹ انہوں نے فلموں میں اداکاری کرنی شروع کر دی تھی۔ پرکاش پکچرس کے بینر تحت بنی فلم ‘لیدر فیس’میں ان کا نام بے بی مینا رکھا گیا۔اس کے بعد بچوں کا کھیل میں بطور اداکارہ کام کیااور اس فلم نے مینا کماری کا نام دیا گیا۔