نئے ووٹروں کے اندراج کی مہم سے قبل بی ایل اوز کا سیکوریٹی کا مطالبہ

   

کولکاتا۔ 5 اکتوبر (آئی اے این ایس) مغربی بنگال میں بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) کی ایک تنظیم نے چیف الیکٹورل آفیسر نیلم مینا کو خط لکھ کرگھرگھر ووٹر اندراج کی آئندہ مہم کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مہم خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران حذف کیے گئے اہل ووٹروں کے نام دوبارہ درج کرنے اور نئے اہل ووٹروں کے نام ووٹر فہرست میں شامل کرنے کے لیے شروع کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق بی ایل اوز کوگھرگھر جاکر ان اہل ووٹروں کے نام دوبارہ درج کرنے ہوں گے جن کے نام ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹر فہرست سے خارج ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ووٹروں کے نام درج کرنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ اس ہدایت کے بعد مغربی بنگال کے بعض بی ایل اوز نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ ایس آئی آرکے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا یا ان پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔ بی ایل اوزکی تنظیم نے ایسے 8 اضلاع کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں اس طرح کے واقعات کا خطرہ زیادہ محسوس کیا جارہا ہے۔ تنظیم کے مطابق حساس اضلاع میں شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ، ہاوڑہ، ہگلی، مالدہ، مرشدآباد، اتر دیناج پور اورکولکاتا شامل ہیں۔ کولکاتا اور ہگلی کے بعض علاقوں کو حساس قراردیاگیا ہے، جبکہ باقی 6 اضلاع کو مکمل طور پر حساس زمرے میں رکھا گیا ہے۔ تنظیم نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے نام خارج کرنے کے فیصلے میں بی ایل اوزکا کوئی کردار نہیں تھا، اس کے باوجود حذف کیے گئے ووٹروں کے ایک طبقے کی جانب سے انہیں ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ تنظیم کے سکریٹری سواپن منڈل نے کہا، ہمیں گھر گھر جاکرکام کرنے کے دوران سکیورٹی خطرات کا خدشہ ہے۔ اسی لیے ہم نے چیف الیکٹورل آفیسرکو خط لکھ کر بی ایل اوز کے لیے حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ ہر بی ایل او کے ساتھ سکیورٹی اہلکار یا ضروری نفری تعینات کی جائے۔ بی ایل اوز کے خدشات اس واقعہ کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں جو رواں سال اپریل میں مالدہ ضلع کے موتاباری میں پیش آیا تھا۔