لکھنؤ: ملک کا کئی مرتبہ نام روشن کرنے والے معذورکرکٹ کھلاڑی لوو ورما سات سال سے نوکری کی تلاش میں سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں۔ ہندوستان کی دیویانگ کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان نے اپنی تکلیف کو ایک خط کے ذریعہ شائقین کے سامنے پیش کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دیویانگ کرکٹ کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ معذور افرادکو ترجیح دینے والی حکومت کے نمائندوں میں اس طبقے کے تئیں بے حسی نظر آتی ہے ۔ورما نے لکھا میں پچھلے سات سال سے روزگار کے لئے دوڑرہا ہوں۔ میرا خواب تھا کہ میں اپنے ملک کے لئے کھیلوں ، میں نے عظیم کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر کو دیکھ کر کرکٹ سیکھی۔ دیویانگ کرکٹ کنٹرول بورڈ آف انڈیا (نیتی آیوگ) کے ذریعہ آٹھ بین الاقوامی دیویانگ کرکٹ مقابلوں میں حصہ لیا ہے اور میں ہندوستانی ٹیم کا نائب کپتان بھی ہوں2015 میں دیویانگ ایشیاکپ اور اپریل میں دبئی کے شارجہ میں اختتام ڈی پی ایل میں مین آف دی میچ منتخب کیا گیا تھا۔سونبھدرا کے علاقے انپرہ کے رہنے والے ورما نے کہا انہوں نے نیپال کے خلاف 2019 میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو131 رنز سے جیت دلائی تھی۔ میں نے خواب دیکھا تھا کہ میں اپنی پوری زندگی کرکٹ کے کھیل کے لئے وقف کروں گا۔ جب ملک کے لئے کھیلتا تھا تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ حکومت یا کمپنی ملازمت دے گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوسکا۔ 13 فروری 2015 کو ہم ایشیاء کپ چمپئن بن گئے ۔ یہ سمجھا گیا تھا کہ 31 مارچ 2015 کو ، اس وقت کے وزیر اعلی اکھلیش یادو انپارہ کالونی کے سی آئی ایس ایف گراؤنڈ میں تھے ۔ جب یہ معلوم ہوا کہ وہ آرہے ہیں تو ، بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ میں اپنی بات رکھ ل سکوں گا لیکن بدقسمتی سے کسی نے پوچھا تک نہیں ۔