بغاوت کرنے والوں سے عالمی برداری کی بات سننے معزول صدر کی اپیل
نائیمی: نائیجر میں حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوج کے حامی سڑکوں پر آ گئے۔ دارالحکومت نائیمی میں پارلیمانی عمارت کے اطراف میں جمع ہوئے ہزاروں افراد نے ” فرانس نکل جاو” اور” نائیجر فوج زندہ باد” کے نعرے لگائے جبکہ ڈوسو میں یکجا مجمعے نے فرانسیسی فوجیوں کی ملک سے فوری بے دخلی کا مطالبہ کیا۔ ان دونوں مظاہروں میں روسی پرچموں کا لہرایا جانا قابل توجہ رہا ،دریں اثنا، نائیمی میں جمع ہوئے مظاہرین نے سابقہ صدر بازوم کی سیاسی جماعت نائیجر ڈیموکریسی اینڈ سوشلزم پارٹی کے مرکزی دفتر کو آگ لگا دی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے نائیجر میں حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد صدر محمد بازوم کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ گوٹیرس نے نیو یارک کے کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے نائیجر کے صدر بازوم سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے،میں یہاں سے حکومت پر قابض قوتوں سے کہتا ہوں کہ وہ صدر بازوم کو بلا کسی شرط رہا کردیں،ملک کے جمہوری نظام کو بحال کریں اور قانونی کی بالا دستی قبول کریں۔گوٹیرس نے مزید بتایا کہ بات چیت کے دوران بازوم نے اپنی صحت کو تسلی بخش قرار دیا مگر ملکی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔دوسری طرف فرانسیسی وزیرخارجہ کا کہنا ہیکہ نائجرمیں بغاوت کے بعد گرفتار کیے جانے والے صدر کی صحت بہتر ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے کہا کہ بغاوت حتمی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نائجر کے معزول صدر محمد بازوم نے اپنے فرانسیسی ہم منصب میکرون سے کہا ہیکہ بغاوت کرنیوالے عالمی برادری کی بات سنیں تو ان کیلئے راستہ موجود ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز نائجر میں بغاوت کے بعد فوج کے حامیوں نے صدر کی جماعت کے ہیڈ کوارٹرکے باہر حملہ کیا جس میں مشتعل افراد نے ہیڈ کوارٹرکے باہر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگادی اور پتھراؤ بھی کیا۔پارلیمنٹ کے باہر بغاوت کے حق میں جمع ہونے والے بڑے ہجوم کو آگ لگانے والے مشتعل افراد نے مار بھگایا جب کہ اس دوران پارلیمنٹ کے باہر روس کے پرچم بھی لہرائے گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج صدر بازوم کو گرفتار کرنے والے فوجی دستوں کو مکمل تعاون فراہم کررہی ہے جب کہ صدر کی رہائی کے لیے روس نے بھی دیگر ممالک کی طرح اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی ہے۔64 سالہ محمد بازوم 2 سال پہلے نائجر کے صدر منتخب ہوئے تھے اور وہ مغربی افریقا میں شدت پسند گروپوں کے خلاف لڑائی میں مغرب کے اہم اتحادی رہے ہیں۔دوسری جانب امریکہ اور فرانس نے نائجر میں فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی ہے جب کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسیر صدر کے لیے واشنگٹن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہیکہ اس نے نائجر میں چلنے والے اپنے انسانی آپریشن معطل کردیے ہیں۔اس سے قبل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ نائجر میں 40 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔