نئی دہلی/ عمان : اردن میں حکام نے ایک ڈاکٹر کے ہاتھوں ایک مریضہ کے ناکارہ گردے کی جگہ اس کا تندرست گردہ نکالنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔میڈیا سے معلوم ہونے والی خبروں سے پتا چلا ہے کہ اردن کی ایک خاتون گردے کے مرض میں مبتلا تھی اور اس کا ایک گردہ صرف دس فی صد ہی کام کررہا تھا۔ ایٹروفی کی وجہ سے اس گردے کو نکالنا تھا۔ مریضہ نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ’نیم حکیم‘ معالج نے مریضہ کے خراب گردے کی جگہ اس کا صحت مند گردہ ہی نکال ڈالا۔یہ واقعہ عمان میں واقع الزرقا سرکاری اسپتال میں پیش آیا۔ حکام کو اس بارے میں علم ہونے پر غفلت برتنے والے ڈاکٹر کو برطرف کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔مریضہ کے والدین ابھی تک صدمے میں ہیں کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہوا۔ طبی عارضے کا شکار ہونے والے خاتون کے بھائی خالد الحیوات نے بتایا کہ ان کی بہن کو دو ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل گردے میں تکلیف ہوئی جس پر چیک اپ کے لیے زرقا سرکاری اسپتال گئیں جہاں پتہ چلا کہ اس کا ایک گردہ ایٹروفی کا شکار ہے۔اس کے کام کرنے کی صلاحیت صرف دس فیصد رہ گئی ہے، اس لیے ڈاکٹروں نے اسے نکالنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پیر کے روز اس کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹر نے طبی غلطی کے ساتھ اس کا صحت مند گردہ نکال دیا، جس کی وجہ سے ان کی بہن کو انتہائی نگہداشت میں داخل کرنا پڑا۔ مریض کے بھائی نے اردن کے وزیر صحت ڈاکٹر فراس الھواری کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان سے اپنی بہن کیلئے گردہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ زرقا کے پبلک پراسیکیوٹر کے جج ایمن المصلحہ نے گردے کے غلط آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کو گرفتار کرنے کے بعد چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔