نریندر مودی اور کے سی آر کو عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی فائدہ کی فکر

   

ملی بھگت کے تحت ایک دوسرے کی مخالفت، کانگریس قائد محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد۔27۔ مئی (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قائدین کی ترجیحات عوام کی بھلائی نہیں بلکہ سیاسی فائدہ ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیراعظم نے کل اپنے دورہ کو حیدرآباد تک محدود رکھا جبکہ کے سی آر نے خود کو استقبال سے دور رکھتے ہوئے وزیراعظم کو سیاسی تقریر کا موقع فراہم کیا۔ نریندر مودی اور کے سی آر میں ملی بھگت ہے اور وہ سیاسی فائدہ کیلئے ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ کے سی آر کو چاہئے تھا کہ وہ اس موقع پر فائدہ اٹھاکر ریاست کے مسائل پر وزیراعظم کو یادداشت پیش کرتے لیکن انہوں نے تلنگانہ اور عوام کی بھلائی پر توجہ نہیں دی۔ وزیراعظم کی سیاسی تقریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی کے پاس تلنگانہ میں اقتدار کا حصول اہمیت کا حامل ہے اور انہیں عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وزیراعظم نے بی جے پی کارکنوں سے خطاب کیا اور ان کا خطاب وزیراعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ بی جے پی قائد کی طرح تھا۔ وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ تلنگانہ کے امور پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ۔ چیف منسٹر خود اجلاس کا اہتمام کرتے ہوئے وزیراعظم کو تلنگانہ کے مسائل سے واقف کراسکتے تھے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کے مسائل کے حل میں وزیراعظم اور چیف منسٹر کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ چیف منسٹر کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے بنگلور کا دورہ کرنے کے بجائے نریندر مودی سے ملاقات کرتے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے وزیراعظم کے دورہ کو نظرانداز کرنا تلنگانہ عوام کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ دونوں قائدین جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ہے۔ دھان کے مسئلہ پر چیف منسٹر راست طور پر وزیراعظم سے سوال کرسکتے تھے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے خود کو غیر حاضر رکھتے ہوئے نریندر مودی کے لئے جلسہ کی راہ ہموار کردی۔ر