آسان اور محفوظ ادائیگی عوام کی ترجیح، ڈبٹ کارڈ اور اے ٹی ایم کے استعمال میں کمی
حیدرآباد ۔25 ۔ فروری (سیاست نیوز) ملک میں نقدی کے ذریعہ ادائیگی کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران عوام کی جانب سے یو پی آئی اور کریڈٹ کارڈس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق صارفین اور تاجر حضرات ادائیگی کے معاملہ میں نقدی کے بجائے آن لائین طریقہ کار کو ترجیح دے رہے ہیں جو زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے ۔ حالیہ برسوں میں یو پی آئی اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال کی اہم وجہ ادائیگی میں سہولت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کیو آر کوڈ کی تعداد 2023 میں 24.42 کروڑ تھی جو 2026 میں بڑھ کر 73.82 کروڑ ہوچکی ہے ۔ چھوٹے اور اوسط درجہ کی ادائیگیوں کے لئے عصری طریقہ کار کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ آر بی آئی کے مطابق 2024 اور 2025 کے درمیان یو پی آئی سسٹم کو اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ کریڈٹ کارڈ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ 2023 میں کریڈٹ کارڈ کی تعداد 8.25 کروڑ تھی جو 2026 میں بڑھ کر 11.66 ہوچکی ہے اور تین برسوں میں 3.4 کروڑ کا اضافہ ہوا جو تقریباً 41 فیصد ہوتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ خریدی کے مقامات پر ادائیگی میں 2026 میں 26.75 کروڑ درج کئے گئے جبکہ یہ ادائیگی 2023 میں 14.09 کروڑ تھی۔ پوائنٹ آف سیل پر کریڈٹ کارڈس کے ذریعہ 2026 میں 75988 کروڑ ادا کئے گئے ۔ آن لائین پلیٹ فارم پر کریڈٹ کارڈ ادائیگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں 11.82 کروڑ کی ادائیگی ہوئی جو 2026 میں بڑھ کر 26.93 کروڑ ہوچکی ہے۔ ان معاملتوں کی جملہ مالیت 123021 کروڑ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خریدی مراکز پر ڈبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ 2023 میں 17.43 کروڑ ادائیگیاں ڈبٹ کارڈ کے ذریعہ کی گئیں اور 2026 میں جو گھٹ کر 7.73 کروڑ ہوچکی ہیں۔ ڈبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگیوں کی مالیت 37520 سے گھٹ کر 25513 کروڑ ہوچکی ہے۔ آر بی آئی کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں اے ٹی ایم کے استعمال میں بھی کمی واقع ہوئی ہیں۔1