چار روڈی شیٹرس کے بشمول 6 افراد زیرحراست ، تحقیقات جاری
حیدرآباد : /25 جون (سیاست نیوز) نلگنڈہ میں ایک خاندان کے چار افراد کی مشتبہ موت کے معمہ کو پولیس نے حل کرلیا ہے اور ان چار افراد میاں بیوی اور دو بچوں کی مشتبہ موت کو قتل قرار دیا ہے ۔ فارنسک رپورٹ کے بعد پولیس نے تحقیقات میں شدت پیدا کردی اور پرانے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 6 افراد بشمول چار روڈی شیٹرس کو حراست میں لے لیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ان افراد سے نامعلوم مقام پر تفتیش جاری ہے ۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ خاتون کے پہلے شوہر کی بیٹی اور داماد نے کرایہ کے قاتلوں سے قتل کروایا ۔ اس واردات میں 45 سالہ سلطان ، 38 سالہ حسینہ ، 20 سالہ مزمل اور 14 سالہ افسرہ شامل تھیں ۔ حسینہ بیگم کے نام موجودہ اراضی اور جائیداد اس اجتماعی قتل کی اصل وجہ ثابت ہورہی ہیں ۔ سلطان پیشہ سے بیاگوں کا کاروبار کرتا تھا اور ان کا بیٹا مزمل پیشہ سے اے سی ٹیکنیشن تھا ۔ بچی خانگی اسکول میں 7 ویں جماعت زیرتعلیم تھی جس اسکول میں حسینہ ٹیچنگ کرتی تھی ۔ /22 جون کو ان چاروں کا بے رحمی سے قتل کردیا گیا تھا ۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلایا کہ کسی قریبی رشتہ دار کی یہ کارستانی ہوسکتی ہے اور تحقیقات میں حسینہ کی بیٹی اور اس کے شوہر کو شک کے دائرے میں لے لیا ہے ۔ حسینہ کی سلطان سے تیسری شادی تھی اور سلطان نے بھی حسینہ سے قبل دو اور شادیاں کی تھیں ۔ متوفی بچے سلطان کی پہلی بیوی کی اولاد تھے اور حسینہ انہیں کافی محبت کرتی تھی اور ان بچوں سے حسینہ کو بہت زیادہ لگاؤ ہوگیا تھا ۔ اس نے اپنے نام پر موجودہ جائیداد کو ان بچوں کے نام کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ جس کے بعد حسینہ پر اس کی اپنی اولاد کی محبت دشمنی میں بدل گئی تھی ۔ جائیداد کو سوتیلے بچوں کے نام کرنے کے فیصلے پر برہم اور بوکھلاہٹ کا شکار حسینہ کے پہلے شوہر کی بیٹی نے اپنے شوہر کے ساتھ ملکر منصوبہ تیار کیا اور والدہ کے ساتھ اس کے شوہر اور سوتیلے بچوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی ۔ اس سازش پر عمل کرنے کیلئے اس نے پرانے شہر کے روڈی شیٹرس کو پیشکش کی اور قتل کروادیا ۔ سلطان اکثر نشہ کی حالت میں گھر پہنچتا اور ان کے مکان ہر دن کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا ۔ امکان ہے کہ پولیس بہت جلد اس کا باضابطہ اعلان کرے گی اور قاتلوں کو پیش کرے گی ۔ عy/