نوجوان گلوکاروں کیلئے ’محنت اور ریاض ‘ کامیابی کی کنجی

   

نئی دہلی: ہندوستانی ثقافت میں لوک گیتوں کے قیمتی ورثے کو محفوظ اور فروغ دے رہی مشہور لوک گلوکارہ مالنی اوستھی نے کہا ہے کہ موسیقی کے میدان میں آنے والے نوجوانوں کے لیے محنت اور ریاض کامیابی کی کنجی ہے ۔یہاں یو این آئی سے بات کرتے ہوئے ، اوستھی نے نوجوان گلوکاروں کے لیے ‘سوانت: سکھائے ’ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ انہیں وہ کرنا چاہیے جو انہیں خوشی دیتا ہے ۔ لوک گلوکارہ نے کہا کہ اگر آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کو خوشی دیتا ہے ، تو یہ آپ کے سامعین کو محظوظ کرے گا، خوشی اور سکون بھی دے گا۔اپنی سریلی آواز سے ودھی، بھوجپوری اور بندیل کھنڈی لوک گیتوں کے لاتعداد سامعین کو مسحور کرنے والی گلوکارہ نے موسیقی کے میدان میں جگہ بنانے کی کوشش کرنے والے نوجوانوں کے لیے محنت اور ریاض کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ‘‘محنت اور ریاض دونوں کا بدل نہیں ہے ، ہم اپنے استادوں اورگرووں سے یہی سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں کہ ریاض کرو، محنت کرو! اگر محنت اور ریاض ہے تو اوپر والا آپ کیلئے راستہ کھولتا ہے ۔