نوٹ بندی کے ’’متنازعہ ‘‘ اقدام کو بھی سپریم کورٹ کی توثیق

,

   


عدالت کا 4:1 سے اکثریتی فیصلہ ۔ پانچ رکنی دستوری بنچ کی واحد خاتون جسٹس ناگ رتنا کا نوٹ بندی پر سخت اعتراض

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2016 کے نوٹ بندی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو آج پیر کے روز اکثریتی فیصلے میں خارج کر دیا۔ جسٹس ایس عبدالنذیر کی سربراہی والی پانچ رکنی دستوری بنچ کی جانب سے جج بی آر گوائی نے 4:1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا جبکہ جسٹس ناگ رتنا نے اکثریت سے الگ ایک اختلافی فیصلہ سنایا۔ بنچ کی واحد خاتون رُکن جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ نوٹ بندی کی تجویز
پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے کی جانی چاہیے تھی نہ کہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ۔جسٹس نذیر، جسٹس گوائی، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگ رتنا کی آئینی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد 7 دسمبر 2022 کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ مودی حکومت کی جانب سے 8 نومبر 2016 کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو بند کرنے کے فیصلے کو ایڈوکیٹ وویک نارائن شرما کے علاوہ 50 سے زیادہ عرضیوں کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا۔نوٹ بندی کا اقدام غریب ملک کے کروڑہا شہریوں کیلئے نہایت پریشانی کا باعث بنا جس کے مدنظر یہ کیس کافی اہمیت کا حامل ہوا ۔ دستوری بنچ نے تاریخی فیصلہ میں کہا کہ نوٹ بندی کے اقدام کا مقصد پورا ہوا یا نہیں ، اس سے قطع نظر حکومت نے اپنے اختیار تمیزی کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدام کیا جسے اب پلٹا نہیں جاسکتا ۔ وزیراعظم مودی نے نومبر 2016 ء کی رات نیشنل ٹی وی پر نمودار ہوکر نوٹ بندی کے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے جو مقاصد بیان کئے تھے اُن میں جعلی کرنسی کا خاتمہ کرنا ، دہشت گردی کے لئے فنڈس کو روکنا ، کالا دھن باہر لانا اور ٹیکس چوری کا انسداد نمایاں تھے ۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت اور آر بی آئی نے کبھی اس کا ثبوت نہیں دیا کہ نوٹ بندی کے اقدام کا مقاصد کی تکمیل ہوئی ۔ جسٹس ناگ رتنا نے شاید اسی لئے سخت ریمارک کیا کہ نوٹ بندی کا اقدام ’غیرقانونی ‘عمل ہوا۔ شہریوں کو ہفتوں اپنی رقم کیلئے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا تھا ۔