نیو یارک میں آٹھویں جماعت تک کےطلبہ کیلئے مصنوعی ذہانت ممنوع

   

نیویارک، 3ستمبر (یو این آئی) امریکہ کے شہر نیویارک میں آٹھویں جماعت کے طلبہ کیلئے مصنوعی ذہانت کا استعمال ممنوع کر دیا گیا ہے ۔نیویارک سٹی نے چہارشنبہ کو جاری بیان میں2026-27 کے تعلیمی سال کیلئے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ میئر زہران ممدانی کے دفتر کے مطابق پابندی کا اطلاق نرسری سے لیکر آٹھویں جماعت تک کے تقریباً 600,000 طلبہ پر ہوگا۔ پابندی 2سال سے 14سال کی عمر کے بچوں کا احاطہ کرتی ہے ۔میئر زہران ممدانی نے کہا ہیکہ ’’بچوں کو سیکھنے اور نشوونما پانے کیلئے اساتذہ اور انسانی تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیتیں پروان چڑھانے ، اساتذہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور مشکل مسائل کا خود سامنا کرنے کی ضرورت ہے‘‘ ۔واضح رہیکہ نیویارک سٹی، سالانہ تقریباً 900,000طلبہ کے ساتھ امریکہ کا سب سے بڑا سرکاری اسکول نظام چلاتا ہے ۔ یہ پابندیاں ، تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، اس کے سیکھنے کے عمل، طلبہ کی رازداری اور کمرہ جماعت میں انسانی تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں جاری مباحث کے دوران سامنے آئی ہیں۔