نیوز کلک کے خلاف ای ڈی کا مقدمہ جھوٹا نکلا

   

ساحل عمان پر تین ہندوستانیوں کی موت

روش کمار
انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دوسری مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے بارے میں اپوزیشن قائدین یہی الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ حکومت کے اشاروں پر کام کررہی ہیں اور ان مرکزی ایجنسیوں کا اپوزیشن جماعتوں کو توڑنے انہیں بکھیرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ اپوزیشن کے ان الزامات میں کتنی سچائی ہے اس بات کا فیصلہ آپ ملک کے موجودہ حالات اور مرکزی ایجنسیوں بالخصوص انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ، سی بی آئی ، محکمہ انکم ٹیکس ، این آئی اے وغیرہ کی کارروائیوں کو دیکھ کر کرسکتے ہیں ۔ ای ڈی کس طرح سے جھوٹے مقدمات بناکر نیوز کلک جیسے میڈیا اداروں کو کچل سکتی ہے ۔ جس بھارت پر آپ فخر کرتے ہیں اس بھارت کی خبریں بتانے کی ہمت ایک میڈیا ادارہ کررہا تھا لیکن مودی حکومت اور بی جے پی کے لیڈران کو یہ بات پریشان کررہی تھی کہ اس کے صحافی بول کیسے رہے ہیں ۔ تو ان سب کو چپ کروانے اور ان کی پیٹ پر لات مارنے کیلئے فرضی مقدمہ دائر کرنے کا کھیل کھیلا گیا ۔ عام طور پر حکومتیں نوکری دینے ، روزگار پیدا کرنے کا کریڈٹ لیتی ہیں مگر یہ کہانی ہے سو لوگوں کے میڈیا ادارے کو برباد کر کے وہاں کام کرنے والے لوگوں کے پیٹ پر لات مارنے کی ان کی زندگی کے کئی سال نوکری کھوجنے یا تلاش کرنے میں نکل گئے اور کئی لوگ مایوس ہوگئے ۔ معاملہ اکٹوبر 2023 کا ہے ، دہلی ہائیکورٹ کی جسٹس نیناسنبل کرشنا کی ایک رکنی بنچ نے کہا ہے کہ ای ڈی کی کارروائی نہ صرف غلط ارادے سے کی گئی بلکہ یہ نیوز کلک کی آزاد اور غیرجانبدار صحافت پر ایک جان بوجھ کر کیا گیا حملہ تھا اور اقتدار و طاقت کا غلط استعمال کیا گیا ۔ ایسی ایف آئی آر کو جاری رکھنا قانون کی فراہم کردہ سہولتوں کے خطرناک و بیجا استعمال کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا ہے ۔ دہلی ہائیکورٹ نے نیوز کلک اور اس کے بانی و ایڈیٹر انچیف پرابیر پورکائستھا کے خلاف درج ایف آئی آر اور ای ڈی کی ای سی آئی آر کو رد کردیا ۔ درخواست گزار نے مانگ کی تھی کہ ای ڈی نے جو ای سی آر بنائی ہے اس میں کیا برآمد ہوا کیا ضبط ہوا یہ سب درج ہوتا ہے اس کی کاپی دی جائے اس کے مطالبہ کو بھی خارج کردیا گیا کیونکہ جب کیس ہی فرضی ہے تب ایف آئی آر کی مانگ کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا ۔ دو سال بعد ای ڈی اس معاملہ میں اتنا بھی ثبوت جمع نہیں کرسکی مگر دو سال میں نیوز کلک کا کیا حال ہوا ۔ آزاد اور غیرجانبدارانہ و شفاف صحافت پر خطرناک حملہ کیا گیا اور وہ بھی مودی حکومت میں ہی کیا گیا اس حملہ کی وجہ سے 5 ماہ تک اس چیانل کے ملازمین کم تنخواہ پر کام کرنے کیلئے مجبور ہوئے کیونکہ چیانل کی آمدنی کے وسائل ختم ہوگئے اور اس کے بعد نیوز کلک بند ہوگیا ۔ اس سے جڑے 100 لوگ سڑک پر آگئے ان کی پیٹ پر لات ماری گئی ۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی 12 سال سے ایک بھی لائیو پریس کانفرنس کرنے کی ہمت نہیں کرسکے ۔ نیوز کلک کو برباد کر کے 100 لوگوں کے پیٹ پر ایسی لات ماری کی ان کی زندگی 100 سال پیچھے چلی گئی ۔ ای ڈی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے یہ ادارہ اگر فرضی مقدمہ دائر کرے گا بار بار لوگوں کو پھنسائے گا تو ذمہ داری وزیراعظم مودی پر بھی جائے گی جوا ہرلال نہرو پر نہیں جائے گی ۔ نیوز کلک کی ایک ویب سائٹ بچ گئی ہے کبھی کبھار اس پر کچھ شائع ہوتا ہے مگر چھاپہ سے پہلے نہ ایک بھرا پورا ادارہ تھا ۔ نیوز کلک کی ایک ہی غلطی تھی کہ ہم لوگوں کے احتجاج کا احاطہ کرنے والی صحافت کررہے تھے یہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ نے ہماری بات کی تصدیق کی ہے ۔ عدالت کا فیصلہ ہندوستان میں آزادانہ صحافت کے حق میں دیکھا جانا چاہئے ۔ عدالت نے ای ڈی کی من مانی پر کھل کر تنقید کی ہے ۔ عدالت میں ہمارا بھروسہ بنا ہوا ہے اور اس فیصلہ سے یہ بھروسہ اور مضبوط ہوتا ہے ہم اپنے حامیوں وکیلوں، دوستوں اور ان عام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا ہمیں یقین ہے کہ نیوز کلک کے خلاف جو دوسرے معاملے چل رہے ہیں ان کا بھی فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا ۔ سچائی کی فتح ہوگی اور پریس کی آزادی قائم رہے گی یہ کہانی آپ کو گودی میڈیا نہیں بتائے گا ۔ میڈیا کو تب بھی پتہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہے غلط ہورہا ہے ۔ ای ڈی کے دعووں میں کوئی سچائی نہیں تب بھی میڈیا مجرمانہ خاموشی اختیار کر گیا اس کہانی سے ان خاندانوں کو یہ بھی سمجھنے میں مدد ملے گی جن کے بچے میڈیا کے شعبہ میں داخل ہونے داخلہ لیتے ہیں صحافی بننے کیلئے لاکھوں کی فیس دیتے ہیں ان کے ماں باپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ یہ ایک ایسا پیشہ ہے جہاں نوکری سے زیادہ پیٹ پر لات مارنے کا خطرہ حکومت سے ہی ہوسکتا ہے ۔ آپ اپنے بچے کو صحافی نہیں بنارہے ہیں بلکہ مودی حکومت کی جیلوں کیلئے ایک قیدی تیار کررہے ہیں ۔ ایک معمولی خبر لکھنے پر یا ایک معمولی شعر کہنے پر جیل ہوسکتی ہے اور انصاف ملنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اگر ملا تو گودی میڈیا ایک ہفتہ ایسی خبروں کو دکھادے تو واٹس ایپ گروپ کے تمام آوارہ انکلوں کے ہوش اُڑجائیں گے کہ اس ملک کے ساتھ کس طرح کا کھلواڑ کیا گیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی چند نوجوانوں میں تقرر نامے بانٹتے ہیں تو ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ ان نوجوانوں پر احسان کررہے ہوں ۔ حالانکہ ان نوجوانوں نے اپنی سخت محنت اور مسابقتی امتحانات میں امتیازی کامیابی کے ذریعہ یہ نوکری حاصل کی ہے ۔ وزیراعظم مودی کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کی حکومت کی ایجنسیوں کی وجہ سے کتنے لوگوں کی نوکریوں پر لات ماری گئی کم سے کم نیوز کلک کے 100 صحافیوں اور عہدہ داروں کو ملا کر یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ان سو لوگوں کو ہم نے سڑک پر لادیا ۔ کیا پتہ ہندوستان کے عوام جس طرح کے ہوگئے ہیں اس بات پر بھی تالی بجادیں ۔ جب وزیراعظم کہدیں کے بھائیو بہنو سو صحافی ، صحافی بننے چلے تھے ہماری ای ڈی نے سب کے پیٹ پر ایسی لات ماری کہ نوکری ہی چلی گئی ۔ ای ڈی کا چہرہ پہلی بار اُجاگر نہیں ہوا کئی طرح کے کیس میں ای ڈی کا چہرہ سامنے آچکا ہے ۔ نیوزکلک کے کیس کو شروع سے اپنے ویڈیو پر دکھایا ہے ۔ اکٹوبر 2023 میں جب اس معاملہ میں پولیس اور ای ڈی صحافیوں سے پوچھ تاچھ کرنے لگی تب ہر صحافی کو چین کا ایجنٹ اور ملک دشمن بناکر پیش کیا گیا ۔ بی جے پی کے ایم پی نیشی کانت دوبے نے یہ سوال کیا اور انوراگ ٹھاکر نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر ڈالی ۔ انہوں نے کچھ یوں کہا ’’’ ہندوستان کیسے کمزور ہو ہندوستانی مفادات کو کیسے نقصان پہنچایا جائے اور کیسے ہندوستان مخالف ایجنڈہ کو ہوا کھاد پانی دیا جائے ایسی فکر وہ لوگ کرتے ہیں اور اس میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ ہندوستان ایک طویل عرصہ سے دنیا کو بتارہا تھا کہ نیوز کلک بھی ہندوستان کے خلاف تشہیر کا ایک خطرناک جال ہے ۔ کانگریس چین اور نیوز کلک سب بھی ایک ہندوستانی دشمن جال سے جڑے ہوئے ہیں ‘‘ اچانک گودی میڈیا کے صحافیوں کو موقع ملا کہ حکومت سے سوال کرنے والے صحافیوں کو چین کا ایجنٹ بتایا جائے ۔ آج چین کا سفارت خانہ NEET کے امتحان میں پیپر لیک کو لیکر مذاق اُڑا رہا ہے اپنے امتحانات کو بے داغ اور مثالی بتارہا ہے کوئی گودی میڈیا اس سوال کو نہیں اُٹھا رہا ہے ۔ چین کو للکار نہیں رہا ہے کیسے للکارے گا ۔ نیٹ پیپر لیک ہونے کے بعد وہ ہندوستان میں چینی سفارتی خانہ کو کیسے للکار سکتا ہے ۔ اگر للکار سکتا تو للکارنا چاہئے لیکن چین کے نام پر صحافیوں کو ملک دشمن کہا گیا ان کے گھر پولیس پہنچ گئی۔ بچوں نے اپنے گھروں میں پولیس دیکھی ان پر کتنا گہرا اثر پڑا ہوگا ۔ اب چلتے ہیں عالمی سطح پر اور اس سطح پر ہرمز پر کنٹرول کی لڑائی چھائی ہوئی ہے ۔ یہ لڑائی اب ہندوستانی شہریوں کیلئے ایک چیلنج بنتی جارہی ہے ۔ امریکہ نے تین ایسے جہازوں پر حملہ کیا ہے جن پر سوار شہریوں میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری تھے کیا امریکہ اس طرح کی جانکاری کے ساتھ حملہ کررہا ہے کہ ان پر ہندوستانی سوار ہیں ؟ تین تین واقعات نے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں کئی مشکلات پیدا کردیں ہیں ۔ امریکی فوج کی اس کارروائی میں ہندوستان کے تین شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ امریکہ ہرمز سے گذرنے والے ان جہازوں کو نشانہ بنارہا ہے جن پر ایران کا تیل لدا ہوا ہے ۔ 8 جون کو میری ویکس جہاز پر حملہ ہوا ۔ 10 جون کو سنے بیلے پر اور 11 جون کو ہیل فائر میزائل سے جل ویر نامی جہاز پر حملہ ہوا ۔ امریکہ کے سنٹرل کمانڈ نے کہا ہیکہ جہاز عمان کے ساحل سے ایران کا تیل لیکر جارہا تھا اسے انتباہ دیا گیا لیکن وہ پار کرنے کی کوشش کررہا تھا اس لئے حملہ کردیا گیا جس کے نتیجہ میں Settobello پر سوار تین ہندوستانی مارے گئے ۔