0.001 فیصد غلطی کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔نیٹ میں بے ضابطگی کے کیس کی 8 جولائی کو اگلی سماعت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو سنگین بے ضابطگیوں اور دوبارہ امتحانات منعقد کرانے کے الزامات سے گھرے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ ۔ یو جی 2024کو منسوخ کرنے کی درخواست پر کہا کہ اگر کسی کی طرف سے 0.001 فیصد بھی لاپرواہی ہوئی ہو تو اس کا اعتراف کرتے ہوئے طلبہ میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے مناسب وقت پر اس معاملے سے نمٹا جانا چاہیے ۔یہ ریمارکس کرتے ہوئے دو رکنی تعطیلاتی بنچ نے مرکز اور این ٹی اے کے وکیل سے مزید کہا کہ اس طرح کی صورتحال کا تصور کریں، اگر کوئی شخص دھوکہ دہی کا مرتکب ہو جائے تو وہ معاشرے کیلئے زیادہ نقصان دہ ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسے امتحانات کی تیاری میں کتنی محنت ہوتی ہے ۔ ہم بروقت کارروائی چاہتے ہیں۔این ٹی اے کو مشورہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ایجنسی کے طور پر آپ کو غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے۔ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو’ہاں‘کہو یہ ایک غلطی ہے اور ہم یہ کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اسے اس معاملے میں خود کا جائزہ لینا چاہیے ۔ سماعت کے دوران بنچ نے مرکز اور این ٹی اے سے کہا کہ وہ غیر جانبداری سے کام کریں اور اگر نیٹ۔ یو جی 2024 میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے قبول کریں اور طلباء میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے مناسب کارروائی کریں۔ مبینہ سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے عام ہوجانے اور امتحان کی تیاری میں دیگر بے ضابطگیوں کی وجہ سے موجودہ حالات سامنے آئے ہیں۔ عدالت اِس کیس کی اگلی سماعت 8 جولائی کو دیگر متعلقہ درخواستوں کے ساتھ کرے گی۔ عدالت نے دہرایا کہ اِس معیار کے امتحان میں لغزش کی کوئی گنجائش نہیں۔