وزیراعظم کے گھمنڈ کو نوجوانوں نے چکناچور کردیا

   

حق کی آواز کو طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا ، نرمل کانگریس انچارج کے سری ہری کی سیاست نیوز سے بات چیت
نرمل ۔ 26 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تعلیمی نظام میں جواب دہی طئے کرنے کی سمت پہلا قدم ہے۔ نوجوان طلبہ پیپر لیک معاملے میں طلبہ کی بڑی تعداد گزشتہ کئی ہفتوں سے مظاہرہ کررہی تھی۔ نیٹ پیپر لیک کی وجہ سے ملک بھر کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر کانگریس قائد و حلقہ اسمبلی نرمل کے کانگریس انچارج کے سری ہری راؤ نے اپنی رہائش گاہ پر نرمل کے اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست سید جلیل ازہر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ راؤ نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاجی طلباء سے اظہار یکجہتی کرنے والے قدآور قائد راہول گاندھی کے ساتھ پولیس کے رویہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ کی کامیاب جدوجہد اور ملک بھر میں کانگریس کی تحریک کی ایک اہم کامیابی ہے۔ سری ہری راؤ نے ہر اس نوجوان اور طالب علم کو مبارکباد دی ہے جو سڑکوں پر نکلے اور جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کیلئے کھڑے ہو۔ اقتدار کے نشہ میں وزیراعظم کا بار بار یہ کہنا کہ ہماری پارٹی میں استعفیٰ نہیں ہوتا، آج ملک کا نوجوان اس گھمنڈ کو چکناچور کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ نوجوان جب سڑک پر آتا ہے تو حکمران اس کے غیض و غضب کا سامنا نہیں کرسکتے۔ اب وہ دن دور نہیں جب مرکزی حکومت کو بے دخل کرنے میں اپوزیشن جماعتیں بالخصوص نوجوان میدان میں آئیں گے۔ آج یہ احتجاج ملک کی کئی ریاستوں میں پھیل چکا ہے۔ کوئی بھی بی جے پی کی تاناشاہی کو قبول نہیں کرے گا۔ آج ملک نے نوجوانوں نے یہ بتادیا کہ حق کی آواز کو لاٹھیوں اور طاقت کے ذریعہ نہیں دبایا جاسکتا۔ جنتر منتر کا یہ احتجاج ایک تاریخ بن گیا ہے۔ سری ہری نے کہا کہ ان نوجوانوں کے جذبات کو مرکزی حکومت اپنی پوری طاقت لگاکر کمزور کرنا چاہتی تھی تاہم بارہ برس کے اقتدار میں کبھی کسی مرکزی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ اس خوش فہمی کو ملک کے نوجوانوں نے مرکزی حکومت کو جھکانے میں کامیابی حاصل کی اور ملک کے ہر حصہ میں نوجوان نسل خوشی سے جھوم اُٹھی ہے۔ مرکزی حکومت کو اب نوجوانوں کے مستقبل اور ان کی جدوجہد کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کا وقت ہے۔