حالات کو معمول پر لانے سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں۔ سی ای او کے تقرر میںتعطل جاری
حیدرآباد۔29۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں جاری تنازعہ شدت اختیار کرے گا یا ختم ہوجائے گا! حکومت وقف بور ڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے یا معمول کے مطابق چلانے آمادہ ہے یا نہیں اس کا مکمل انحصار بورڈ اور عہدیداروں کے درمیان تعطل کے خاتمہ پر ہے۔ بورڈ اور عہدیداروں کے درمیان 20 اکٹوبر کو ہوئے اجلاس کے بعد جو تعطل کا آغاز ہوا تھا وہ جاری ہے اور ہائی کورٹ فیصلہ کے مطابق اس تعطل کو اندرون 4ہفتہ ختم کرکے مستقل سی ای او کے تقرر کی ہدایت دی گئی ہے لیکن حکومت یا محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی پیشرفت کرنے کی بجائے وقف بورڈ کی جانب سے سی ای او کے نام کی تجاویز کا انتظار کیا جا رہاہے ۔ کہا جا رہاہے کہ عدالت کے احکام کے مطابق وقف بورڈ کو مستقل سی ای او کیلئے اہل عہدیداروں کے نام روانہ کرنے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود ان کا انتظار کر رہا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود عہدیداروں کے مطابق جب تک بورڈ سے عہدیداروں کے نام کی تجاویز نہیں ملتیں اس وقت تک محکمہ سے کسی پیشرفت کی گنجائش نہیں ہے جبکہ بورڈ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ حکومت سے اہل عہدیداروں کی فہرست اب تک انہیں نہیں ملی ہے جبکہ فہرست روانہ کرنے دو ماہ قبل ہی مکتوب روانہ کیا جاچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ میں تعطل کے خاتمہ کو یقینی بنانے کی بجائے ٹال مٹول کے رویہ سے ایسا لگنے لگا ہے کہ حکومت تلنگانہ کی اوقافی اراضیات کے تحفظ کے حق میں نہیں ہے اسی لئے معاملہ کو الجھنوں کا شکار بنایا جانے لگا ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے اس مسئلہ کو رجوع کرنے کے علاوہ مسلم عہدیداروں کی ترقی کی نمائندگیوں کے باوجود مسئلہ جوں کا توں رہنے کے متعلق کہا جارہاہے کہ چیف منسٹر کووقف بورڈ تعطل کے متعلق گمراہ کن تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں جس کے نتیجہ میں تعطل کے خاتمہ کیلئے چیف منسٹر کے دفتر سے کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی ہے ۔ بور ڈکے اراکین نے تعطل کی صورتحال کو بورڈ کے مفادات کے مغائر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس مسئلہ کو حل کرنے فوری اقدامات نہیں کئے گئے تو اراکین وقف بورڈ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے خلاف چیف منسٹر سے ملاقات کرکے شکایت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔م