آج آخری تاریخ، متولی زمرہ میں رائے دہی کا امکان، نامزد ارکان میں سید عمر جلیل اور ملک معتصم خاںکو قطعیت
حیدرآباد۔/16 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے انتخابات کے سلسلہ میں آج 4 پرچہ جات نامزدگی داخل کئے گئے۔ ارکان مقننہ، متولی و منیجنگ کمیٹی اور بار کونسل زمرہ میں یہ نامزدگیاں داخل کی گئیں۔ ارکان مقننہ زمرہ کے تحت 2 ارکان کا رائے دہی کے ذریعہ انتخاب ہوگا اور اگر صرف 2 نامزدگیاں داخل کی جائیں تو بلامقابلہ منتخب قرار دیئے جائیں گے۔ اس زمرہ میں ٹی آر ایس کے رکن کونسل فاروق حسین نے آج اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ پارٹی کے دوسرے رکن کونسل محمود علی نے نام پیش کیا ہے۔ متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ کی دو نشستوں کیلئے 2 پرچہ جات داخل کئے گئے اور دونوں بھی منیجنگ کمیٹیوں کی جانب سے ہیں۔ مرزا انوار بیگ ( مسجد صحیفہ ، اعظم پورہ ) اور فراست علی ( مسجد ابوبکر صدیق ؓ ، ٹولی چوکی ) نے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے۔ بار کونسل کی کونسل زمرہ میں ایم اے کے مقیت ایڈوکیٹ نے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ اسسٹنٹ الیکشن آفیسر منور علی نے پرچہ جات نامزدگی حاصل کئے۔ پرچہ جات کے ادخال کی کل 17 فروری آخری تاریخ ہے جبکہ 18 فروری کو پرچہ جات کی جانچ کی جائے گی۔ 21 فروری سہ پہر 3 بجے تک نام واپس لئے جاسکتے ہیں۔ جن زمرہ جات میں مقررہ تعداد سے زیادہ پرچہ جات نامزدگی داخل ہوں ان کیلئے 28 فروری کو رائے دہی ہوگی اور اسی دن نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔ انتخابی زمرہ میں جملہ 6 ارکان ہیں جن میں ارکان پارلیمنٹ زمرہ سے ایک اور بار کونسل زمرہ سے ایک رکن کا انتخاب ہوگا۔ تلنگانہ سے مسلم رکن پارلیمنٹ کے طور پر اسد اویسی کا انتخاب یقینی ہے کیونکہ وہ واحد مسلم رکن ہیں۔ بار کونسل میں 2 مسلم ایڈوکیٹس کی موجودگی کے سبب انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں الجھن پائی جاتی ہے۔ اس مرتبہ متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ کے 2 ارکان کا انتخاب رائے دہی کے ذریعہ ہونے کا امکان ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر نے وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے حلیف جماعت مجلس کی قیادت سے مشاورت کی ہدایت دی ہے جس کے تحت ارکان مقننہ زمرہ میں حلیف جماعت کو ایک نمائندگی دی جائے گی۔ متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ میں اتفاق رائے کی کوشش جاری ہے۔ اس زمرہ میں اہل ووٹرس کی تعداد 475 بتائی گئی ہے اور اب تک 2 پرچہ جات نامزدگی داخل ہوچکے ہیں باقی 5 ارکان کو حکومت نامزد کرے گی۔ ابتداء میں کہا جارہا تھا کہ موجودہ بورڈ کے ارکان میں کسی کو دوبارہ موقع نہیں دیا جائے گا لیکن متولی اور منیجنگ کمیٹی اور نامزدگی میں دو ارکان کی دوبارہ واپسی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ مرزا انوار بیگ نے پرچہ نامزدگی داخل کردیا جبکہ حلیف جماعت کی سفارش پر ملک معتصم خاں کو پھر ایک مرتبہ بورڈ میں نمائندگی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے ان کے حق میں چیف منسٹر سے سفارش کی اور ٹی آر ایس کے حق میں جماعت اسلامی کی تائید برقرار رکھنے کیلئے ریاستی صدر جناب حامد محمد خاں سے وزیر داخلہ محمود علی نے بات چیت کی جس کے بعد ملک معتصم خاں کے نام کو منظوری دی گئی۔ حکومت کے نمائندہ کے طور پر اس مرتبہ سید عمر جلیل ( آئی اے ایس ) کو شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر سے ان کے نام کو منظوری دی گئی جبکہ 22 فروری کو تحلیل ہونے والے وقف بورڈ میں آئی پی ایس عہدیدار تفسیر اقبال حکومت کے نمائندہ کے طور پر شامل تھے۔ بورڈ کے صدر نشین کے عہدہ کیلئے کئی دعویدار میدان میں ہیں لیکن چیف منسٹر کے سی آر اس بارے میں قطعی فیصلہ کریں گے۔ ر