حیدرآباد۔2۔جون۔(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کو محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے غیر کارکرد اور ٹھپ بنانے کی ساز ش کے اثرات اب نظر آنے لگے ہیں کیونکہ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت خدمات انجام دینے والے قضائت شعبہ میں لاکھوں روپئے کا غبن ہونے کے باوجود اب تک کسی بھی عہدیدار کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ عوام سے جو ’میاریج سرٹیفیکیٹ ‘ کے لئے تلنگانہ وقف بورڈ سے رجوع ہوتے ہیں فیس وصول کرنے کے باوجود ’بورڈ‘ میں جمع کروانے کے بجائے اسے غائب کردیا گیا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ کئی ماہ سے جاری اس دھاندلی میں ملوث افراد کے متعلق اعلیٰ عہدیداروں کو اطلاع کے باوجود نظرانداز کیا جاتا رہا۔تلنگانہ وقف بورڈ کا گذشتہ 20ماہ سے اجلاس منعقد نہ ہونے کے نتیجہ میں بورڈ کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوچکا ہے اور مقدمات میں شکست ‘ درگاہ کی ہنڈی میں دھاندلیوں کے بعد اب وقف بورڈ کے ہی دفتر میں چلائے جانے والے شعبہ قضائت میں دھاندلیوں و بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ وقف بورڈ کے دفتر میں گذشتہ ایک ماہ سے جاری تحقیقات کے سلسلہ میں جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اس کے مطابق شعبۂ قضائت سے ہزاروں کی تعداد میں ’میاریج سرٹیفیکیٹ‘ کی اجرائی عمل میں لائی جانے کے باوجود ان سرٹیفیکیٹ سے وصول ہونے والی رقومات دفتر میں جمع نہیں کروائی گئی بلکہ شعبہ قضائت میں جاری دھاندلیوں کی متعدد شکایات کے باوجود مکمل خاموشی اختیار کی جا رہی ہے اور اس شعبہ میں خدمات انجام دینے والوں کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی سے گریز کیا جا رہاہے حالانکہ شعبہ قضائت کے انچارج کے عہدہ پر موجود شخص پر ’جعلی‘ سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کا مقدمہ درج ہے لیکن اس کے باوجود اسے اس شعبہ سے ہٹانے کے بجائے اس کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں اس شعبہ میں خدمات انجام دینے والے عملہ نے سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لئے رجوع ہونے والوں سے رقم وصولی کا جو طریقہ کار اختیار کیا ہے اس کے مطابق جاری کئے جانے والے سرٹیفیکیٹ میںجان بوجھ کر معمولی غلطی کی جاتی ہے اور اس غلطی کی تصحیح کے لئے پہنچنے والوں سے ہزاروں روپئے وصول کئے جاتے ہیں ۔ بورڈ کے بیشتر تمام شعبہ جات میں اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جس کی بنیادی وجہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بورڈ کے دائرہ اختیار کو محدود کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹیں ہے۔3