جے پی سی کی میعاد میں توسیع کا امکان، اپوزیشن کے مطالبہ پر صدرنشین جگدمبیکا پال کا اتفاق، لوک سبھا میں آج تحریک کی پیشکشی
حیدرآباد۔/27 نومبر، ( سیاست نیوز) متنازعہ وقف ترمیمی بل 2024 کی پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن میں پیشکشی کا خطرہ آخر کار ٹل چکا ہے۔ اپوزیشن کے شدید احتجاج کے بعد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی میعاد میں توسیع کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل اپوزیشن ارکان میعاد میں توسیع کی مانگ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کے بارے میں وسیع تر مذاکرات مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے میعاد میں توسیع کیلئے اسپیکر لوک سبھا اوم برلا سے بھی نمائندگی کی تھی۔ اپوزیشن کے احتجاج اور حکومت کی بعض حلیف جماعتوں کے دباؤ کے تحت آخر کار مرکزی حکومت نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی میعاد میں توسیع سے اتفاق کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ سال بجٹ سیشن 2025 کے اختتام تک کمیٹی کی میعاد میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ کمیٹی کے صدرنشین جگدمبیکا پال کل جمعرات کو میعاد میں توسیع کی اپیل کریں گے۔ اپوزیشن ارکان نے آج پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہوئے میعاد میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ ارکان کا کہنا ہے کہ مذاکرات اور رائے جاننے کیلئے حقیقی اسٹیک ہولڈرس کو مدعو نہیں کیا گیا اور کمیٹی برسراقتدار پارٹی کے ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ طئے شدہ شیڈول کے مطابق کمیٹی کو 29 نومبر تک رپورٹ پیش کرنی تھی۔ کمیٹی میں شامل بی جے پی رکن نشکانت دوبے نے صدرنشین کمیٹی سے خواہش کی کہ اپوزیشن کے مطالبہ کے مطابق میعاد میں توسیع کی جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن تک توسیع کی سفارش پر اتفاق کیا۔ جگدمبیکا پال لوک سبھا میں قرارداد پیش کریں گے جس کے تحت کمیٹی کی میعاد کو آئندہ سال بجٹ سیشن کے آخری دن تک توسیع کی درخواست کی جائے گی۔ اسپیکر لوک سبھا کی جانب سے قرارداد کو پیش کئے جانے کے بعد ارکان کی ووٹنگ ہوگی۔ توقع ہے کہ ایوان کی متفقہ رائے کو ملحوظ رکھتے ہوئے میعاد میں توسیع کو منظوری دے دی جائے گی۔کمیٹی میں شامل ڈی ایم کے رکن اے راجہ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کے اجلاس سے مختصر وقت کیلئے واک آؤٹ کیا تاکہ میعاد میں توسیع کے مطالبہ پر دباؤ بنایا جاسکے۔ ہماری توقع کے مطابق صدرنشین نے توسیع کے مطالبہ سے اتفاق کرلیا۔ جے پی سی میں شامل بی جے پی کے رکن اپراجیتا سارنگی نے کہا کہ میعاد میں توسیع کے مسئلہ پر کمیٹی کے اجلاس میں کافی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد ہم نے اس مسئلہ پر تفصیلی مشاورت کی۔ برسراقتدار پارٹی کے ارکان میں بعض نے اسٹیک ہولڈرس سے مزید مذاکرات کی تجویز پیش کی جس کے بعد ایک قرار داد تیار کی گئی جو کمیٹی کے صدرنشین جمعرات کو لوک سبھا میں پیش کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ کمیٹی کی میعاد میں توسیع کردی جائے گی۔ اس مطالبہ سے اتفاق کے بعد اپوزیشن ارکان اجلاس میں واپس آگئے۔ جے پی سی کا 29 واں اجلاس آج نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ 9 اگسٹ کو وقف ترمیمی بل جے پی سی سے رجوع کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے ابھی تک 13 ریاستوں کے وقف بورڈز اور 7 ریاستی حکومتوں کے نمائندوں سے بل کے بارے میں رائے حاصل کی ہے۔ 42 تنظیمیں اور اسٹیک ہولڈرس جے پی سی کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیٹی نے دو اسٹڈی ٹور کئے۔ پہلے مرحلہ میں آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹرا اور گجرات میں 123 اسٹیک ہولڈرس سے ملاقات کی گئی۔ دوسرے مرحلہ کے دورہ کو اپوزیشن کے بائیکاٹ کے سبب مختصر کیا گیا اور کمیٹی نے صرف گوہاٹی اور بھوبنیشور کا دورہ کرتے ہوئے 16 اسٹیک ہولڈرس سے ملاقات کی۔ کمیٹی کو ای میل کے ذریعہ 92.2 لاکھ اور شخصی طور پر 4.99 لاکھ نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں۔ 1