وقف ترمیمی بل کے ذریعہ حکومت آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے

   

کولکتہ میں ترنمول اقلیتی سیل کا احتجاجی جلسہ ۔ ارکان پارلیمنٹ و ریاستی وزراء کا خطاب
کلکتہ : ترنمول کانگریس اقلیتی سیل نے آج وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں ترنمول کے سینئر مسلم ممبران پارلیمنٹ ، اسمبلی اور وزرا نے شرکت کی ۔صبح سے بارش کے باوجود پارٹی سینئر ارکان جیسے کلیان بنرجی، فرہاد حکیم، ندیم الحق اور جاوید خان نے ریلی میں شرکت کی۔ ریلی سے خطاب میںرکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی جو وقف بل پر جے پی سی رکن ہیں نے کہا کہ مرکزی حکومت ترامیم کے ساتھ ہندوستان کے آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وقف کا مطلب ہے جائیداد کو اللہ کیلئے وقف کرنا۔ جس لمحے میں کوئی جائیدادقف کی جاتی ہے تو اسی وقت اس کا مالک اللہ ہوجاتے ہیں ۔دستور کا دفعہ 26 (مذہبی فرقوں) کو اپنے مذہبی معاملات کو خود سنبھالنے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے ۔ اس طرح،اگر کسی بل کے ذریعے کسی مذہبی عقیدے پر حملہ کیا جاتا ہے ، تو یہ دفعہ 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔کلکتہ کے میئرو ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے مرکزی حکومت پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں امن اور اتحاد کو خراب کرنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔انہوں نے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں پر حملوںپر الزام لگایا کہ بی جے پی ان واقعات کو بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے جواز کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ اقلیتوں کی حفاظت اکثریت کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں جو ہوا وہ غلط تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہندوستان میں بھی ایسا ہی کریں گے ۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ۔ ترنمول کانگریس شروع سے ہی وقف (ترمیمی) بل 2024کی مخالفت کررہی ہے ۔ بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے بھی اسمبلی میں باضابطہ بل کی مخالفت کی اور کہا کہ ترامیم سے نہ صرف وقف املاک کے انتظام میں خلل پڑے گا بلکہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کو بھی نقصان ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کے ذریعہ مسلمانوں کے حقو ق کو چھینے کی کوشش کی ہے ۔