وقف ترمیمی قوانین کی سخت مخالفت، قانون سے دستبرداری پر زور

   

قانون کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ، عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی
ضرورت، اندرا پارک پر احتجاجی دھرنا، مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔31۔مئی ۔(سیاست نیوز) مرممہ وقف قوانین کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کو تیز کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ مرممہ وقف قوانین کے خلاف جاری احتجاج میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے مسلمانوں کی عباد تگاہوں اور جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ دھرنا چوک اندرا پارک پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران مختلف قائدین و عمائدین ملت نے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے جو قوانین منظور کروائے ہیں ان قوانین کے ذریعہ راست مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ دستور میں دیئے جانے والے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ اس احتجاجی دھرنے سے کئی سرکردہ قائدین نے مخاطب کیا۔ جناب مشتاق ملک کی زیر قیادت منعقدہ دھرنے میں رکن قانون ساز کونسل پروفیسر کودنڈا رام ‘جناب وی ہنمنت راؤ سابق رکن پارلیمنٹ‘جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ‘ امیر حلقہ جماعت اسلامی تلنگانہ جناب خالد مبشرالظفرمشیر‘ریاستی حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی و اقلیتی امور جناب محمد علی شبیر‘ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی ‘صدرنشین تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی مولانا غلام سید افضل بیابانی خسرو پاشاہ‘ صدر نشین تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جناب عبیداللہ کوتوال‘ صدر ٹمریز جناب فہیم قریشی ‘ صدر مجلس بچاؤ تحریک جناب مجید اللہ خان فرحت ‘جناب شیخ عبداللہ سہیل‘ جناب فیروز خان ‘جناب شکیل ایڈوکیٹ‘ جناب مظفرعلی خان‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری ‘ جناب عثمان محمدخان‘ محترمہ خالدہ پروین‘ محترمہ شیلا سارہ میتھیوز‘ جناب علیم خان فلکی کے علاوہ دیگر سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔ مقررین نے احتجاج کے دوران اپنے خطاب کے دوران مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دستور کے بنیادی اصولوں کے خلاف بنائے گئے اس قانون سے دستبرداری اختیار کی جائے ۔ انہو ںنے مرکز میں موجود بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے مخالف مسلم اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپنی زیر اقتدار ریاستوں میں ان متنازعہ قوانین پر عمل آوری کو یقینی بناتے ہوئے مسلمانوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کے عملی اقدامات کا آغاز کرچکی ہے۔
جو کہ ملک میں منافرت کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں ۔ مقررین مرممہ وقف قوانین کو پوری طرح سے مسترد کرنے کا اعلان کیا ۔