وقف جائیدادوں پر قبضہ اور بورڈ کے مفادات کو نقصان پہونچانے والوں کے خلاف کارروائی

   

سی بی سی آئی ڈی تحقیقات ، سینئیر رکن بورڈ کے خلاف مواد کا حصول
حیدرآباد۔20۔اکٹوبر(سیاست نیوز) وقف جائیدادوں پر قبضوںاور بورڈ کے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف جاری سی بی سی آئی ڈی تحقیقات نے نئی کروٹ لینی شروع کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ وقف بورڈ کے سینیئر رکن کے خلاف موجود شکایات کے متعلق سی بی سی آئی ڈی کو مواد حاصل ہوا ہے اور تحقیقاتی ایجنسی نے ان معاملات کی بھی اپنے طور پر جانچ کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر کے نواحی علاقہ میں مودجود ایک درگاہ کے تحت اراضی اور درگاہ کی تولیت کے معاملہ میں مداخلت کرنے کا رکن وقف بورڈپر الزام ہے اور اس کے متعلق تحقیقاتی عہدیداروں کی جانب سے تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور ان تفصیلات کے حصول کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر سے قریب بعض درگاہوں کے معاملات میں بھی معزز رکن کی مداخلت کے متعلق شکایات موصول ہوچکی ہیں ۔ سی بی سی آئی ڈی عہدیداروں نے بتایا کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے متعدد مرتبہ ریکارڈس کی جانچ کے علاوہ دیگر تفصیلات کے متعلق مواد طلب کیا ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں نے تشفی بخش جواب نہیں دیئے جس کے نتیجہ میں سی بی سی آئی ڈی کے عہدیداروں نے اپنے طور پر تحقیقات اور حقائق سے آگہی حاصل کرتے ہوئے رپورٹ کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ سی بی سی آئی ڈی کے عہدیداروں نے کسی جزوی رپورٹ کے بغیر تفصیلی رپورٹ حکومت کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ حکوت کی جانب سے سی بی سی آئی ڈی کو جلد رپورٹ داخل کرنے کی ہدایات موصول ہوئی ہیں ۔ حکومت نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہر بند کرتے ہوئے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور کئی برسوں سے ریکارڈ سیکشن مقفل ہونے کے باعث اب متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے بھی مکتوبات موصول ہونے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بھی وقف بورڈ کی جائیدادوں کی تباہی کے سلسلہ میں شروع کی گئی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کی عاجلانہ تکمیل کے لئے اقدامات کو تیز کیا جاچکا ہے تاکہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد کاروائی کے ساتھ ساتھ وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کی کشادگی کو یقینی بنایا جاسکے۔م