نئے وقف قانون کے خلاف اسوسی ایشن برائے سجادگان ، متولیان کا اہم اجلاس ، وقف ایکٹ میں ترمیم کے خلاف حکومتوں سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد۔12اگست(سیاست نیوز) نئے وقف قانون کے خلاف حیدرآباد میں اسوسی ایشن برائے سجادگان ‘ متولیان ‘ خدمت گذاران وقف تلنگانہ کے زیر اہتمام ایک گول میز کانفرنس زیر نگرانی مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری منعقد ہوئی ، جس میں حیدرآباد دکن کے سرکردہ علماء‘ سجادگان‘ متولیان اور خدمت گذاران وقف نے شرکت کی ۔ ا س کانفرنس میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میںمجوزہ نئے وقف قانون کی سخت الفاظ میںمذمت کی گئی ۔ مذکورہ وقف ایکٹ کے تحت ایک جلسہ عام منعقد کرنے ‘ عوام میں اس کے متعلق شعور بیداری مہم چلانے اور این ڈی اے شراکت دار سیاسی جماعتوں جیسے تلگودیشم پارٹی کے سربراہ اور چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرابابونائیڈو اور جنتا دل ( یونائٹیڈ) سربراہ اور چیف منسٹر بہار نتیش کمار کے علاوہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی ( جے پی سی ) سے نمائندگی کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے ۔اجلاس میں اوقافی جائیدادوں کے متعلق حقائق سے بھی این ڈی اے حکومت کی شراکت دار سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کو واقف کروانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔وقف کی تفصیلات ‘ شرعیت میں وقف کی اہمیت ‘ اور حقیقی معنی میں وقف کس کو کہتے ہیں اس سے بھی ان سیاسی جماعتوں کو واقف کروانے کا ارادہ کیاگیا ہے۔وقف کے سماجی نہیںبلکہ مذہبی اور خیراتی اور دیگر مقاصد ہیں۔ اس موقع پر رنگ برنگے شملے اور ٹوپیاں پہن کر مجوزہ وقف ایکٹ کی تائید کرنے والے علماء اور مشائخین پر بھی شکنجہ کسنے کی حکمت عملی پر غور کا اظہار کیاگیا ہے ۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ‘ مشائخین اور سجادگان نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وقف کے دستور کو سماجی اصلاحات کا علمبردار قراردیا او رکہاکہ ملک بھر کی خانقاہیں ‘ درگاہیں ‘ مسلم مذہبی مقامات‘ عاشور خانے گنگا جمنی تہذیب کا مرکز ہیں مگر مرکزی حکومت مسلمانوں کی اس شناخت کو مٹانے کی مذموم کوشش کررہی ہے ۔کانفرنس میںموجوداکثریت نے نئے ترمیمات کو تمام محاذوں پر نقصاندہ قراردیا او رکہاکہ وقف کا معاملہ خالصتاً مسلمانوں سے جڑا ہوا ہے اور مسلمانوں کے ہر فرقہ سے اس کا تعلق ہے ۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ریاست تلنگانہ میں ریاستی وقف بورڈ کے فریقین میں محکمہ ریونیو ہوتا ہے اور اس کا سربراہ ضلع کلکٹر ہوتے ہیںاگر نئے قانون کے تحت کلکٹر کو وقف جائیدادوں کا نگران کار بنادیاجاتا ہے تو پھر تلنگانہ کی اوقافی جائیدادوں کی حفاظت کس طرح سے ممکن ہے۔انہوں نے بتایاکہ ایک یادواشت تیار کی جائیگی اورحکومت کے اتحادی پارٹیوں کو یہ یادواشت وفد کی شکل میں جاکر نمائندگی کے طور پر پیش کی جائیگی ۔ اجلاس میں مولانا سید ابراہیم حسین سجاد پاشاہ‘ مولانا سید منیر الدین مختار‘ صوفی مظفر علی صوفی ابولعلائی ‘ مولانا سید غلام افضل خسرو بیابانی‘ مولانا سید مسعود حسین مجتہدی‘ مولانا سید ظہیرالدین علی صوفی‘ مولانا سید قطب الدین حسینی ‘ مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدرآغا‘مولانا جیلانی پاشاہ قادری‘ مولانا صوفیان علی شاہ ‘مولانا سید ابراہیم قادری زریں کلاں‘مولانا شیخ احمد شطاری‘ مولانا ظہیر احمد خان ‘ایم اے مقیط رکن تلنگانہ ہائی کورٹ بار کونسل ورکن تلنگانہ وقف بورڈ‘سینئر ایڈوکیٹ محمد عبدالمقیط قریشی ‘ایڈوکیٹ ڈاکٹر علی دانش‘ مولانا غلام محمد میر حسن علی زبیرنواب‘ مولانا سید آلِ مصطفیٰ قادری خلیفہ شاہ ‘ مولانا سید ندیم اللہ حسینی‘ مولانا بادشاہ محی الدین‘ مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری‘ مولانا سید وسیع اللہ قادری نظام پاشاہ‘ مولانا حبیب علی شاہ ثالث‘ مولانا ولی اللہ حسینی افتخاری‘ مولانا شجا ع الدین افتخاری‘ سید محمد باشاہ قادری زریں کلاں‘ ڈاکٹر سید سمیع اللہ حسینی‘ مولانا سید احمد نوراللہ حسینی‘ سید بندگی بادشاہ قادری ریاض پاشاہ‘ سید سراج محمد قادری شرفی‘ سید احمد الحسین ‘ سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی کے علاوہ دیگر نے اس اجلاس میںشرکت کی ۔