وندے ماترم کو سیاسی اور مذہبی تقسیم کا ذریعہ بنانے کی کوشش جاری

,

   

مندروں کی تعمیر کے بعد وہاں چور یاں ہور ہی ہیں ، بی جے پی اور آر ایس ایس پر رینوکا چودھری کی شدید تنقید

نئی دہلی، 19 اگست (ایجنسیز) کانگریس کی راجیہ سبھا رکن رینوکا چودھری نے وندے ماترم کو لے کر جاری سیاسی تنازع پر بی جے پی اور آر ایس ایس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قومی گیت کو سیاسی بحث کا موضوع بنا کر ملک میں نفرت اور تقسیم کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رینوکا چودھری نے سونیا گاندھی پر وندے ماترم کی مبینہ توہین سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سونیا گاندھی نے جو کہا، اسے سمجھے بغیر صرف ایک اشارے کی بنیاد پر ان کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔ انہوں نے کنگنا رناوت کے اس الزام پر بھی ردعمل دیا جس میں اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کانگریس پر حب الوطنی اور قومی ترانے کے معاملے میں پاکستان سے بھی زیادہ نفرت کرنے کا الزام لگایا تھا۔ رینوکا چودھری نے کنگنا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کی تاریخ کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جو لوگ آج اچانک وندے ماترم اور حب الوطنی کی بات کر رہے ہیں، وہ پہلے کہاں تھے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وندے ماترم کو جان بوجھ کر سیاسی اور مذہبی تقسیم کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ قومی گیت کو اچانک اتنی شدت سے سیاسی بحث کا حصہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی کے سونیا گاندھی کے خلاف ’’اطالوی خون‘‘ سے متعلق بیان پر بھی رینوکا چودھری نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی قومیت یا خاندانی پس منظر کو بنیاد بنا کر حب الوطنی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں اور سوال کیا کہ آخر کسی شخص کے خون میں کیا ہے، یہ طے کرنے کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ مندر اس لیے بنائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں چوری کیا جا سکے۔ رینوکا چودھری نے ایودھیا کے رام مندر سے متعلق عطیات اور انتظامی معاملات پر بھی مرکزی حکومت اور متعلقہ ٹرسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے رام مندر عطیات معاملے میں ایس آئی ٹی کی جانب سے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے اور سابق ٹرسٹی انل مشرا کو کلین چٹ دیے جانے پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ بڑے عہدوں پر موجود افراد کو بچانے کے لیے نچلے درجے کے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ رینوکا چودھری نے الزام لگایا کہ مذہبی مقامات کی تعمیر کے نام پر ہونے والی سرگرمیوں میں شفافیت ضروری ہے۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں کہا کہ اگر مذہب کے نام پر بدعنوانی یا بے ضابطگی ہوتی ہے تو اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایودھیا رام مندر عطیات معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے چمپت رائے اور انل مشرا سے پوچھ گچھ کی تھی۔ دونوں نے جون میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا تھا۔رینوکا چودھری نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مستقبل سے متعلق سوال پر کہا کہ جمہوریت میں سیاسی مستقبل کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کس نے سوچا تھا کہ عدالتی تبصرے کے بعد ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کی بات سامنے آئے گی۔
ان کے مطابق جمہوریت کی یہی خصوصیت ہے کہ جب تک جمہوری عمل زندہ ہے، سیاست میں کسی بھی تبدیلی کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ وندے ماترم پر سیاسی تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب پارلیمنٹ میں قومی گیت سے متعلق بحث کے دوران حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تاریخی اور قومی موضوعات کو سیاسی بحث کا مرکز بنا رہی ہے۔
رینوکا چودھری اس سے قبل بھی پارلیمنٹ کے اندر وندے ماترم اور NEET تنازع کے حوالے سے حکومت پر شدید تنقید کر چکی ہیں۔ جولائی میں انہوں نے کہا تھا کہ وندے ماترم کے نعرے لگانے سے طلبہ اور عوام کے حقیقی مسائل حل نہیں ہوں گے۔