الیکشن کمیشن سے سوال ۔ خصوصی اور عام زمرہ میں ووٹرس کی تقسیم پر بھی کیا سوال
نئی دہلی21 ستمبر (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تعلق سے حکومت اور الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ ووٹرز کو فہرست سے باہر کرنے کے بعد اب ‘خصوصی’ اور عام ووٹرز کو الگ الگ زمروں میں کیوں بانٹا جا رہا ہے ۔ کھرگے نے سوشل میڈیا پر کہا کہ بہار سے شروع ہوا ایس آئی آر اب دہلی پہنچ چکا ہے اور کانگریس اسے پہلے دن سے ہی خامیوں سے پر بتا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی، وزیر خارجہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر، راجیہ سبھا ایم پی، سابق مرکزی وزیر اور سابق چیف منسٹر سمیت کئی لوگوں کو نوٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس شروع سے ہی اسے خامیوں سے بھرپور نظام بتا رہی ہے اور اب اس کی خرابیاں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر میں جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ، اب تک جن معاملات میں فیصلہ ہوا ہے ان میں 93 فیصد لوگوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کی ہے اور 1,13,943 لوگوں کو پھر سے ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کس بنیاد پر ان لوگوں کا حقِ رائے دہی چھینا گیا۔کانگریس صدر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ‘وی آئی پی نشان زد ووٹرز’ کے تعلق سے کہا کہ کیا ملک میں ہمہ گیر بالغ حقِ رائے دہی میں اب خصوصی اور عام ووٹرز کا الگ الگ زمرہ ہے ؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ آئین کے ‘ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہے اور کیا وی آئی پی کا ووٹ اب زیادہ قیمتی ہو گیا ہے ؟مسٹر کھرگے نے کہا کہ ایس آئی آر کے پہلے تین مرحلوں میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 13.8 کروڑ ووٹرز فہرست سے باہر ہوئے ، جو 94.78 کروڑ ووٹرز کا تقریباً 14.61 فیصد ہے ۔ ان کروڑوں عام ووٹرز کے معاملے میں کون اور کس کے اشارے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے ؟انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب وی آئی پی کے لیے پریس ریلیز اور کروڑوں عام ووٹرز کے معاملے میں خاموش ہے ۔