ٹرمپ کا 2024 کی صدارتی مہم کا آغاز

   

میں پہلے سے زیادہ غصہ میں ہوں اور جیت کیلئے پُرعزم ہوں

واشنگٹن : امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ صدارتی مہم کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی مہم کی شروعات نیو ہیمپشائر اور جنوبی کیرولینا کی ریاستوں سے کی ہے۔نیو ہیمپشائر میں ریپبلکن پارٹی کی سالانہ تقریب سے خطاب میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ’میں اب زیادہ غصے میں ہوں اور پہلے سے زیادہ پرعزم ہوں۔‘انہوں نے اپنے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا ’ہم نے بڑی ریلیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، جو پہلے سے زیادہ بڑی ہوں گی۔‘ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم چلانے کے لیے ریاست فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں مرکزی دفتر کھولا گیا ہے جہاں کے لیے عملے کی ہائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔نیو ہیمشائر میں ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابی ایجنڈنے کا اعلان کیا جس میں امیگریشن اور جرائم کی شرح بھی شامل ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیاں صدر جو بائیڈن سے مختلف ہوں گی۔جنوبی کیرولینا کے دورے پر پارٹی سے خطاب میں ڈونالڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن اور حکومتی جماعت ڈیموکریٹ پر تنقید کرتے ہوئے ٹرانجینڈر کمیونٹی پر ہتک آمیز تبصروں کے علاوہ الیکٹرک گاڑیاں اور چولہے استعمال کرنے والوں کا مذاق اڑیا۔جبکہ سابق صدر نے اپنے دور حکومت میں کیے جانے والے اقدامات جیسے تیل کی پیداوار میں اضافہ اور امیگریشن پر کریک ڈاؤن کو سراہتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دہرایا۔
آئندہ صدارتی انتخابات کے امیدوار کے طور پر فی الحال صرف ڈونالڈ ٹرمپ ہی سامنے آئے ہیں تاہم فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس، سابق نائب صدر مائیک پینس اور جنوبی کیرولینا کے سابق گورنر نیکی حیلے ان کے ممکنہ چیلنجر ہو سکتے ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ کی 2016 کی مہم پر کام کرنے والے گیری میک ڈینیئل کا کہنا ہے کہ میڈیا کے مطابق سابق صدر کی حمایت میں کمی آئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔’کیونکہ جو کچھ واشنگٹن میں ہو رہا ہے اس پر بہت سارے لوگوں کو غصہ ہے۔‘ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم ابتدائی مراحل میں ہی تنازعات کا شکار ہو گئی ہے بالخصوص جب سابق صدر نے ہالوکوسٹ کو مسترد کرنے والے سفید فام قوم پرست نک جوزف اور یہودیوں پر تعصبانہ تبصرے کرنے والے موسیقار کین ویسٹ کے ساتھ کھانا کھایا۔اس کے علاوہ ڈونلد ٹرمپ کے خلاف مختلف کیسز میں مجرمانہ تحقیقات بھی جاری ہیں جن میں سے ایک سینکڑوں کی تعداد میں خفیہ حکومتی دستاویزات اپنے گھر میں رکھنے کا معاملہ ہے۔تنقید کے باوجود ابتدائی پول کے نتائج سے واضح ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ پسندیدہ شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں جو ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ہو سکتے ہیں۔