ٹرمپ کے داماد کا غزہ کے لوگوں کو مصر اور اردن منتقل کر نے کا اشارہ

   

واشنگٹن: چند روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’فلسطینیوں کو غزہ سے مصر یا اردن منتقل کرنے‘‘ کا خیال بہ ظاہر محض زبان کا پھسلنا نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اندر خانہ اس حوالے سے منصوبہ بنا چکے ہیں۔گذشتہ جمعرات کی شام وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ قاہرہ اور عمان دونوں ممالک کے فیصلہ کن انکار کے باوجود وہ تباہ شدہ غزہ کے لوگوں کو وصول کرنا قبول کریں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خیال پر امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان شاید حال ہی میں بات ہوئی تھی۔ٹرمپ کے بیانات کی بازگشت سے قبل ان کے داماد جیرڈ کشنر نے گزشتہ سال فروری میں ایسا ہی ایک بیان دیا تھا۔انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ اگر غزہ پٹی کو شہریوں سے خالی کر دیا گیا تو غزہ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ اس کا محل وقوع اس کی طویل سمندری پٹی بہت دلکش ہے جبکہ ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے دو روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر کے بیانات محض زبان کا پھسلنا نہیں ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں جس پر وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ میں سنجیدگی سے بحث ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے چینل 12 کے سیاسی مبصر امیت سیگل جن کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر اور دائیں بازو کے دیگر عہدیداروں سے قریبی تعلقات ہیں نے کہا کہ سینئر اسرائیلی حکام نے ان کے خیالات کے بارے میں معلومات کی تصدیق کی۔ ان عہدیداروں نے کہا کہ “غزہ سے لوگوں کی منتقلی کا منصوبہ ہے۔ ہم انہیں عارضی یا مستقل طورپر اردن اور مصر منتقل کرسکتے ہیں‘‘۔غزہ میں جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیلی انٹلیجنس نے فلسطینی پٹی سے شہریوں کو، جن کی تعداد 2.3 ملین تھی، مصری جزیرہ نما سینا میں کیمپوں میں منتقل کرنے کے لیے ایک منصوبہ یا دستاویز تیار کی تھی۔یہ دستاویز سب سے پہلے مقامی نیوز سائٹ سیچا میکومیٹ کی طرف سے رپورٹ کی گئی تھی. اس میں بتایا کہ غزہ سے شہریوں کو شمالی سیناکی “خیمہ بستی ” میں منتقل کرنے، پھر مستقل شہر اور ایک انسانی راہداری کی تعمیر کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

اسرائیل کا لبنان پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام
بیروت: اسرائیل کی فوج نے لبنان کی وادء بقاع اور سرحد کے اندر حزب اللہ کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی فوج نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کے ان ٹھکانوں میں زیرِ زمین ہتھیاروں کی تیاری کا مرکز اور لبنان میں اسلحے کی اسمگلنگ سے منسلک مقام شامل ہے۔اس سے قبل جمعرات کو اسرائیل نے حزب اللہ کی طرف سے لانچ کیے گئے سرویلیئنس ڈرون کو روکتے ہوئے اسے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ لبنانی فوجی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کی کارروائیوں پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ سال نومبر کے آخر میں جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں فریقین کے درمیان 2023 میں غزہ جنگ کے ساتھ شروع ہونے والا تنازع ختم ہوا تھا۔امریکہ نے اتوار کو تصدیق کی تھی کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والا جنگ بندی معاہدہ 18 فروری تک نافذ العمل رہے گا۔ اس سے قبل معاہدے کی ڈیڈ لائن 26 جنوری تھی۔معاہدے کے عرصے کے دوران اسرائیلی افواج کو لبنانی سرحد سے انخلا کرنا ہے۔جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے اسرائیل نے لبنانی علاقوں پر متعدد حملے کیے ہیں جس میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیل کی جنوبی لبنان کے علاقے مجدل سلم میں حالیہ کارروائی میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔