ٹی آر ایس کے مزید دو ارکان اسمبلی اور دو ارکان کونسل کو ای ڈی نوٹس کا امکان

   

منی لانڈرنگ کیس میں پوچھ تاچھ کیلئے طلبی ہوسکتی ہے ۔ ساہیتی انفرا ٹیک معاملہ کی تحقیقات میں بھی تیزی

حیدرآباد 6 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کے مزید 2ارکان اسمبلی اور 2 ارکان کونسل کو جلد انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی نوٹس مل سکتی ہے اور انہیں منی لانڈرنگ مقدمہ میں پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ 15 دنوں میں تلنگانہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ‘ انکم ٹیکس و سی بی آئی کاروائیوں کے دوران بیشتر ریاستی وزراء‘ ارکان اسمبلی ‘ ارکان کونسل کے علاوہ دیگر کونشانہ بنایاجاچکا ہے لیکن اب ایک نئے اسکام میں ای ڈی نے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی وارکان کونسل کے علاوہ بعض دیگر قائدین کو نوٹس جاری کرکے انہیں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت مرکزی ایجنسیوں پر بی جے پی کی ایماء پر کام کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے اور اس دوران ای ڈی کی جانب سے سنگاریڈی سب رجسٹرار کو مکتوب روانہ کرکے ساہیتی انفراٹیک معاملہ میں ای ڈی تحقیقات مکمل ہونے تک کسی قسم کی رجسٹری یا اراضیات کی منتقلی نہ کرنے کو کہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ای ڈی نے ساہیتی انفراٹیک میں سرمایہ کاری کرنے والے ارکان اسمبلی کے علاوہ ساہیتی انفراٹیک کے پراجکٹس کو منظوری دلوانے میں معاون ارکان کونسل کو نوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان سے مزید معلومات حاصل کی جاسکیں ۔ بتایاگیا کہ ساہیتی انفراٹیک معاملہ میں ای ڈی کو اب تک کی تحقیقات کے دوران کئی ایسے شواہد حاصل ہوئے ہیں جو کہ کمپنی میں سرکاری سرپرستی میں بدعنوانیاں و بے قاعدگیاں انجام دی گئی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ای ڈی حکام نے ارکان اسمبلی اور قانون کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ بعض ایسے قائدین کی نشاندہی کی ہے جو کہ ساہیتی انفراٹیک معاملتوں کا حصہ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہناہے کہ جن قائدین کی نشاندہی کی گئی وہ کسی اور سیاستداں کے بے نامی بھی ہوسکتے ہیں اسی لئے ان ناموں کے فوری افشاء کی بجائے مکمل تحقیقات کے بعد کاروائی کی جائیگی ۔ ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل کے متعلق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ساہیتی انفراٹیک سے روابط ‘ سرمایہ کاری اور لین دین و سرکاری طور پر کمپنی پراجکٹس کو منظوری دلوانے میں مدد کے شواہد ہیں۔ان شواہد کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ساہیتی انفرا کمپنی کی جائیدادوں کی منتقلی اور اراضیات کے رجسٹریشن و دیگر پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لئے مکتوب روانہ کرنے کے بعد اب نوٹسیں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔