پائلٹس کیلئے سخت قواعد ضروری

   

دنیا بھر میںفضائی سفر اب عام ہوتا چلا جارہا ہے ۔ کسی زمانے میں فضائی سفر کو ایک وقار اور شان کی علامت سمجھا جاتا تھا تاہم آج کے مصروف ترین دور میں فضائی سفر ضروریات زندگی ہی کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ فضائی سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ فضائی مسافرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ملک بھر میں ائر لائینس کمپنیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ جو کمپنیاں موجود ہیں ان کے پروازیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور ایسے میں عملہ کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ فضائی سفر کو انتہائی اہمیت اس لئے بھی حامل ہے کہ اس میں سینکڑوں زندگیوں کا انحصار ہوتا ہے اور اگر کہیں کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو سینکڑوں زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں اور سینکڑوں خاندان متاثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ طیاروں کے جو پائلٹس ہوتے ہیں وہ ایک طرح سے سینکڑوں زندگیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور اپنی چوکسی اور مستعدی و صلاحیتوں کے ساتھ وہ فضائی سفر کو پرسکون اور محفوظ بناتے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصہ میں دیکھا جا رہا ہے کہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے تحت پائلٹس بھی ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہونے لگے ہیں ۔ ان میں نشہ کی عادات بھی عام ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں عام مسافرین کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہونے لگا ہے ۔ فضاء میں ہزاروں فیٹ کی بلندی پر اگر کوئی معمولی سا بھی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو مسافرین کی روح تک کانپ جاتی ہے ۔ ایسے میں یہ پائلٹس ہی ہوتے ہیں جو مسافرین کیلئے تسلی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ انہیں حوصلہ دیتے ہیں اور طیارہ کو سنبھالتے ہیں۔ پائلٹس پر طمانیت کی وجہ سے ہی لوگ فضائی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم حالیہ چند واقعات کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ پائلٹس کیلئے سخت قوانین بنائے جائیں۔ انہیںمعمول کے مطابق عام بھرتیوں کی طرح شمار نہ کیا جائے بلکہ ان کیلئے مختلف مراحل میں ٹسٹ اور معائنوں کو لازمی قرار دیا جائے ۔ وقفہ وقفہ سے ان کی ذہنی حالت و صحت کی جانچ کا سلسلہ بھی کیا جانا چاہئے ۔
کچھ وقت پہلے لندن کیلئے پرواز کرنے والے ائر انڈیا کے طیارہ کو احمد آباد میں حادثہ پیش آیا تھا ۔ اس میں بھی مسافرین اور عملہ کے ارکان کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ اس حادثہ کے تعلق سے تاحال اندیشوں کا اظہار کیا جاتا ہے اور یہ رائے بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ پائلٹ کی حرکت کا نتیجہ تھا۔ گذشتہ دنوںپھوکیٹ سے نئی دہلی آنے والی پرواز اچانک فضاء میں 300 فیٹ نیچے تک آگئی ۔ اس واقعہ میں بھی کچھ مسافرین اور عملہ کے ارکان زخمی ہوئے تھے ۔ حالانکہ طیارہ نے بحفاظت لینڈنگ کرلی تھی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم اس واقعہ سے بھی پائلٹس کے ھرز عمل پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ اب جو معائنوں کی رپورٹس آئی ہیں ان کے مطابق پھوکیٹ ۔ دہلی پرواز اڑانے والا پائلٹ منشیات کے استعمال کا مرتکب پایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ خواب آور ادویات کا بھی استعمال کرتا تھا ۔ اس طرح کی کیفیت کا شکار افراد کو طیارے اڑانے کی دمہ داری دینا سینکڑوں جانوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔ وزارت شہری ہوابازی کو اس معاملے کے بعد از کم از بیدار ہوجانا چاہئے اور اس کا نوٹ لیتے ہوئے ملک بھر کے تمام پائلٹس کیلئے سخت قوانین تیار کرنے چاہئیں۔ پائلٹس کی بھرتیوں کے وقت ہی ان کی ذہنی و جسمانی صحت کے معائنہ ہونے چاہئیں۔
کسی حادثہ یا واقعہ کے بعد ہی معائنے کرنے کی بجائے ہر ماہ میں کم از کم ایک بار پائلٹس کے معائنے ہونے چاہئیں ۔ ان کے خون کے نمونے حاصل کرتے ہوئے جانچ کی جانی چاہئے ۔ یہ کسی کی شخصی توہین کا مسئلہ نہیں بلکہ سینکڑوں مسافرین کی زندگیوں کا سوال ہوتا ہے اور اس میں کسی کو بھی بخشا نہیں جانا چاہئے ۔ جو پائلٹس یا دیگر عملہ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جائے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ چند ایک کے خلاف کارروائی کی جائے تو دوسروں کیلئے اس سے سبق مل سکتا ہے اور منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے ۔ حکومت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔