واشنگٹن : ایک ایسے وقت میں جب کہ امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ ماسکو کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور یوکرین جنگ روکنے کیلئے کوشاں ہیں، ایک امریکی ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن روس پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی کیلئے ایک منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کی فہرست تیار کریں جن میں نرمی کی جا سکتی ہے تا کہ امریکی نمائندے آئندہ دنوں میں انھیں روسی نمائندوں کے ساتھ زیر بحث لا سکیں۔ یہ اقدام امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس وسیع بات چیت کا حصہ ہو گا جو وہ سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی بہتری کیلئے ماسکو کے ساتھ کر رہی ہے۔امریکی وائٹ ہاؤس، وزارت خارجہ، وزارت خزانہ اور واشنگٹن میں روسی سفارت خانہ نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔واشنگٹن پابندیوں میں نرمی کے مقابل کس چیز کے حصول کا مقصد رکھتا ہے۔واضح رہے کہ روس دنیا میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ہے۔ اگر روس کے توانائی کے نظام سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی گئی تو پھر ٹرمپ کی جانب سے اوپیک کے رکن ایران کی تیل کی برآمدات کے خلاف مہم کی صورت میں ایندھن کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔گذشتہ برس کرملکن ہاؤس نے جو بائیڈن انتطامیہ کے وجود کے سائے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو’’صفر سے نیچے‘‘ قرار دیا تھا۔ ڈیموکریٹ صدر نے یوکرین کو امداد اور اسلحہ فراہم کیا تھا اور روس پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں تا کہ فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کی سزا دی جا سکے۔