نئی دہلی : دہلی پولیس نے ہفتہ کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں سیندھ لگانے کے معاملے میں چھٹے ملزم مہیش کماوت کو گرفتار کر لیا۔ حکام نے بتایا کہ وہ بھی پوری سازش کا حصہ تھا۔ مہیش کو گھنٹوں پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ملزم راجستھان کے ناگور ضلع کا رہنے والا ہے اور وہ 13 دسمبر کو واقعہ کے دن دہلی بھی آیا تھا۔پارلیمنٹ پر 2001 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر چہارشنبہ کو سیکورٹی کی ایک بڑی چوک اس وقت سامنے آئی تھی جب دو افراد (ساگر شرما اور منورنجن ڈی) نے وقفہ صفر کے دوران وزیٹرس گیلری سے لوک سبھا کے اندر چھلانگ لگا دی اور ’کین‘ سے پیلے رنگ کا دھنواں چھوڑ دیا۔
ملزمین، پارلیمنٹ میں خود کو آگ لگانا چاہتے تھے ،حیرت انگیز انکشاف
نئی دہلی : پارلیمنٹ میں سیکورٹی کی خلاف ورزی کرنے والے پارلیمنٹ میں دراندازی کرنے والے ملزمین نے پولیس پوچھ تاچھ کے دوران حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ ملزمین نے بتایا کہ انھوں نے پارلیمنٹ میں خود کو نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ میں پرچہ پھینکنے کے عمل پر بھی غور کیا گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں انھوں نے ان دونوں متبادل کو چھوڑ دیا اور آخر میں پارلیمنٹ میں گھس کر اسموک کینسٹر سے رنگین دھواں چھوڑنے پر اتفاق قائم ہوا۔دہلی پولیس افسران نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ملزمین نے پوچھ تاچھ کے دوران جانکاری دی کہ وزیٹرس گیلری سے لوک سبھا چیمبر میں کودنے کا منصوبہ طے کرنے سے پہلے انھوں نے کئی دیگر متبادل پر بھی غور کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے ملزمین نے اپنے جسم پر فائر پروف جل لگا کر پارلیمنٹ ہاؤس میں خود کو آگ لگانے کے منصوبہ پر غور کیا تھا، لیکن بعد میں یہ ارادہ ترک کر دیا۔ اس کے علاوہ ملزمین نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پرچہ پھینکنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا لیکن پھر آخر میں انھوں نے لوک سبھا میں اسموک کینسٹر سے رنگین دھواں چھوڑنا طے کیا اور بدھ کے روز یہی عمل انجام دیا گیا۔۔ دوسری طرف اس معاملے کی جانچ کر رہی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل میسور سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا کا بیان درج کرنے پر غور کر رہی ہے۔ دراصل پرتاپ سمہا نے ہی ملزمین ساگر شرما اور منورنجن ڈی کا وزیٹر پاس بنانے کو اپنی منظوری دی تھی۔
واقعے کے فوراً بعد دونوں کو پکڑ لیا گیا تھا۔ یہ نوجوان لوک سبھا میں جو پمفلٹ لائے تھے ان میں ترنگے کے پس منظر میں مٹھی کی تصویر تھی اور منی پور میں تشدد پر ہندی اور انگریزی میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔