پارلیمنٹ مانسون سشن کا پیر سے آغاز

,

   

کانگریس چندہ چوری ‘ تعلیمی امورو مہنگائی کے مسائل اٹھائے گی
سونیا گاندھی کی قیامگاہ پر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس۔ مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض

نئی دہلی، 16 جولائی (یو این آئی) پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں حکومت کو مندر میں چندہ چوری سے مہنگائی اور تعلیمی نظام کے مسائل پر نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی طے کرنے کیلئے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر آج پارٹی کے سینئر لیڈروں کی اہم میٹنگ ہوئی۔میٹنگ میں پارلیمنٹ مانسون اجلاس کے دوران اٹھائے جانے والے اہم امور، سرکار کو مختلف مفادِ عامہ اور قومی اہمیت کے موضوعات پر گھیرنے کی حکمتِ عملی اور اپوزیشن کے ساتھ تال میل جیسے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی مانسون اجلاس کے دوران ‘چندہ چوری-آستھا سے دھوکہ’، پیپر لیک اور تعلیمی نظام کے منظم زوال، آئینی اداروں پر قبضے ، سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی سیاست ، مختلف اسکامس اور بدعنوانی کے الزامات، بے لگام مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور اسٹریٹجک غلطیوں، 3.5 کروڑ گاڑیوں کے مالکان پر ایتھنول آمیزش کومسلط کرنے ، اندھا دھند جنگلات کی کٹائی اور درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل ، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل ہو رہے حملوں جیسے امور پر مودی سرکار سے جواب مانگے گی۔کھرگے نے کہا کہ یہ تمام ایسے سنگین امور ہیں جو ملک کے عوام کی زندگی اور مستقبل کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہی موضوعات پر کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مانسون اجلاس میں سرکار کو جوابدہ بنانے کی حکمتِ عملی تیار کی گئی۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی کے ساتھ ہی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے ، راہول گاندھی، تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش، سینئر لیڈر پرمود تیواری، ایم پی منیش تیواری اور پارٹی کے کئی دیگر سینئر لیڈر شامل ہوئے ۔