مودی عوام کے بھگوان ہرگز نہیں ہوتے، بی جے پی قائدین کی غلامانہ ذہنیت
حیدرآباد۔/31جنوری، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی کا صرف نام تبدیل ہوا ہے جبکہ ڈی این اے وہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ انہوں نے ضلع کریم نگر کے جمی کنٹہ میں منعقدہ بی آر ایس پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ بحیثیت رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے اور بحیثیت رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر پرکوئی ترقیاتی کام نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی ہمارے اور عوام کے بھگوان ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اگر بی جے پی قائدین کے بھگوان ہوں گے تو اس سے ہمارا اور عوام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر مودی بھگوان ہوتے تو کیا 400 روپئے میں دستیاب ہونے والا پکوان گیس سلینڈر 1100 روپئے میں فروخت نہ ہوتا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پارٹی کا مطلب بھارت راشٹرا سمیتی ہے۔گجرات پارٹیاں ہرگز نہیں ہے، گجرات والوں کی غلامی کرنا ان کی جوتیاں اٹھانا بنڈی سنجے کا شوق ہوگا مگرکریم نگر کے سپوتوں کو یہ ہرگز قبول نہیں ہوگا۔ ٹی آر ایس اس کو بی آر ایس میں تبدیل کیا گیا ہے جس کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں کے قائدین بی آر ایس میں شامل ہونے کیلئے دلچسپی دکھارہے ہیں لیکن پارٹی کے ڈی این اے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ نام تبدیل ہوا قائدین وہی ہیں، صرف نام تبدیل ہوا ہے ایجنڈہ وہی ہے۔ تلنگانہ کے معاملے میں بھگوان سے لڑنے کا ہمارا ایجنڈہ ہے۔ اسمبلی حلقہ حضورآباد کے ضمنی انتخابات میں ایٹالہ راجندر کو کامیاب بنانے پر فنڈز کی بارش کرنے ، غریب عوام کو 300روپئے وظیفہ دینے اور امیت شاہ کی مکمل تائید سے ریاست کو ترقی دینے کا وعدہ کیا گیا۔ عوام نے بھروسہ کرتے ہوئے ایٹالہ راجندر کو کامیاب بنایا۔ 14 ماہ گذر جانے کے بعد بھی کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے اور نہ ہی مرکزنے کوئی فنڈز جاری کئے۔ کے ٹی آر نے عوام سے اپیل کی کہ 14 ماہ قبل جو غلطی کی گئی ہے وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں نہ دہرائیں۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کوشک ریڈی کی قیادت میں ترقیاتی اقدامات کرنے کااعلان کیا۔ انہوں نے مودی حکومت پر اضافی ٹیکس، سیس کی شکل میں 80 لاکھ کروڑ روپئے کا عوام پر بوجھ عائد کرنے کا الزام لگایا۔ ن