پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ کی عدم موجودگی سے شبہات

   

تقررات کے عمل میں چار فیصد مسلم تحفظات میں کمی اور دیگر نا انصافیوں کو پوشیدہ رکھنے کی دانستہ کوشش تو نہیں ؟

حیدرآباد۔19جنوری(سیاست نیوز) تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے اپنی پہلی معیاد میں مسلمانو ںکو یہ تاثر دیا کہ وہ ریاست میں سماجی انصاف کی حامی ہے لیکن دوسری معیاد میں مسلمانوں سے ناانصافیوں کی مثالیں قائم کرنے میں مصروف ہے۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں مسلم رکن کی نامزدگی میں پہلو تہی کو بھی اسی نظریہ سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلے پبلک سروس کمیشن کی تشکیل میں خصوصی خیال رکھاگیا تھا اور ڈاکٹر متین قادری کو رکن پبلک سروس کمیشن نامزد کیا گیا تھا اور جب ڈسمبر2020میں پہلے کمیشن کی معیاد مکمل ہوئی تو تمام طبقات کو کمیشن میں نمائندگی دی گئی لیکن مسلمانوں کو نمائندگی نہ دئیے جانے سے مسلمانوں میں بے چینی ہے کیونکہ حکومت نے زائد از90ہزار جائیدادوں پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کئے لیکن کمیشن میں مسلم رکن کی عدم موجودگی مختلف شبہات کا سبب بن رہی ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ 4فیصد مسلم تحفظات میں کمی کے متعلق جو خدشات ہیں مسلم رکن کی عدم موجودگی کے سبب اس مسئلہ کی وضاحت نہیں ہو رہی ہے۔ بعض گوشوں سے حکومت پر الزام عائد کیا جا رہاہے کہ دانستہ کمیشن میں مسلم رکن کی نامزدگی کو روکا گیا تاکہ دھاندلیوں اور مسلم تحفظات میں تخفیف کے علاوہ دیگر امور کو منظر عام پر لانے سے روکا جاسکے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں پبلک سروس کمیشن میں کسی نہ کسی مسلم رکن کو نامزد کیا جاتا ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد بھی تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں ڈاکٹر متین قادری کو شامل کیا گیا تھا لیکن نئے کمیشن کی تشکیل میں مسلم نمائندہ اسی طرح نظرانداز کردیا گیا جس طرح ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر مسلمان کی نامزدگی کو نظرانداز کردیاگیا ۔ اسی طرح تلنگانہ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ ڈائرکٹرس پر بھی ایک مسلمان کا تقرر کیا جاتا تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد ایک مرتبہ میر کمال الدین علی خان مرحوم کو ڈائرکٹر بنایا گیا تھا ۔ اسکے بعد کسی اور مسلم عہدیدارکو ڈائرکٹر پر نامزد نہیں کیا گیا ۔ مختلف محکمہ جات میں تقررات کی نگرانی اور اس کی تکمیل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے کی جاتی ہے اور کمیشن میں کسی مسلم رکن کی عدم موجودگی کے سبب مسلمانوں سے ناانصافی کے متعلق شہریوں میں خدشات کو دور کرنے کوئی آمادہ نہیں ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تشکیل تلنگانہ کی تحریک میں متعدد مرتبہ یہ اعلان کیا تھا کہ وہ تلنگانہ کو سماجی انصاف کے مرکز اور سنہرے تلنگانہ کے طور پر ترقی دیں گے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی معیاد میںمسلم ڈپٹی چیف منسٹر کے اعلان پر عمل آوری کی گئی اور اس کے بعد اس کو برخواست کردیا گیا لیکن کمیشن میں مسلم رکن کو نامزد نہ کرنے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت کے بعض متعصب گوشوں نے اس فیصلہ کیلئے ذہن سازی کی ہے اور حکومت میں شامل مسلم نمائندوں کی خاموشی کے باعث حکومت اس کو مکمل نظر انداز کرچکی ہے۔ حکومت اگر سرکاری ملازمین کے تقررات میں مسلمانوں سے امکانی ناانصافیوں کو دور کرنا چاہتی ہے تو فوری کسی غیر سیاسی قابل ‘ تعلیم یافتہ شخص کو بطور رکن تلنگانہ پبلک سروس کمیشن نامزد کرکے عوامی خدشات کو دور کرنے کے اقدامات کرے۔ حکومت سے سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے سماجی انصاف ناگزیر ہے لیکن تقررات میں مسلمانوں سے ناانصافی کو دور کرنے میں غیر سنجیدگی کے ذریعہ یہ ثابت کر رہی ہے کہ حکومت کو مسلم ووٹرس اور ان سے ناانصافیوں سے دلچسپی نہیں ہے اور مسلمانوں سے ان ناانصافیوں میں حکومت کے مسلم نمائندوں کی جانب سے بھی مکمل خاموشی اختیار کی جانے لگی ہے تاکہ چیف منسٹر کو خوش رکھا جاسکے۔ چیف منسٹر کی جانب سے مسلمانوں کے کان خوش کرنے کے معاملہ کو ازراہ مذاق ایوان اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا لیکن حکومت کی دوسری معیاد کا جائزہ لیا جائے تو حکومت حقیقت میں کان خوش کرکے اپنی معیاد مکمل کرنے جا رہی ہے اور اگر معیاد کی تکمیل سے قبل ریاست میں تقررات کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو مسلمانوں کو جو نقصان ہوگا اس کی پابجائی کسی صورت ممکن نہیں ہوپائیگی اور اس ناانصافی کے خلاف جدوجہد شروع کی جانی چاہئے ۔ م