پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ پر فی الفور عمل آوری کا مطالبہ

   


سی پی آئی قائدین کی منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی سے ملاقات
حیدرآباد۔/13 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سی پی آئی نے پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کے کام فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے میٹرو ریل کے منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی کو یادداشت پیش کی۔ سی پی ریاستی عاملہ کے رکن ای ٹی نرسمہا کی قیادت میں وفد نے این وی ایس ریڈی سے ملاقات کی اور پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں میں تاخیر پر وضاحت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے پرانے شہر کے عوام کو میٹرو ریل کا انتظار ہے۔ شہر کے دیگر علاقوں میں میٹرو ریل کے توسیعی کام جاری ہیں لیکن پرانے شہر کو اس پراجکٹ سے محروم رکھا گیا ہے۔ وفد میں حیدرآباد ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ سکریٹری ایس چھایا دیوی، اسٹالن، جی چندر موہن گوڑ، این سریکانت، شمس الدین، اے راجو اور دوسرے موجود تھے۔ ای ٹی نرسمہا نے کہا کہ پرانے شہر میں 5.5 کیلو میٹر طویل میٹرو راہداری کے کام فوری شروع کئے جائیں جو مہاتما گاندھی بس اسٹیشن املی بن سے فلک نما تک رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرانے شہر کے پراجکٹ کیلئے بجٹ میں 500 کروڑ مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پرانے شہر کی 30 لاکھ سے زائد آبادی ہے اور انہیں سفر کی عصری سہولتیں فراہم کی جانی چاہیئے۔ مائنڈ اسپیس جنکشن سے شمس آباد تک ایرپورٹ ایکسپریس میٹرو راہداری کے کاموں کا آغاز کیا گیا لیکن حکومت کی توجہ پرانے شہر کے پراجکٹ پر نہیں ہے۔ ای ٹی نرسمہا نے کہا کہ مجلس کی مخالفت اور رکاوٹ کے سبب پراجکٹ کا کام شروع نہیں کیا جاسکا۔ پرانے شہر کیی ترقی میں مجلس اتحادالمسلمین رکاوٹ بن رہی ہے۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے افراد دوردراز کے علاقوں تک پہنچنے کیلئے میٹرو ٹرین سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ میٹرو ٹرین پراجکٹ پرانے شہر کی ترقی میں اہم رول ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے پرانے شہر کے میٹرو منصوبہ پر عمل کیا جائے۔ر