پرانے شہر کو میٹرو ٹرین سے محروم رکھنے کیلئے مجلس اور بی آر ایس مساوی ذمہ دار : کشن ریڈی

   

فلک نما کے بجائے افضل گنج تک محدود،مرکز نے میٹرو پراجکٹ کیلئے 1250 کروڑ جاری کئے، مرکز پر تنقید کا بی آر ایس کو حق نہیں
حیدرآباد۔/7 مارچ، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر سیاحت و کلچر جی کشن ریڈی نے پرانے شہر کے عوام کو میٹرو ٹرین سے محروم رکھنے کا بی آر ایس اور مجلس پر الزام عائد کیا اور کہا کہ مجلسی قائدین کے اثاثہ جات کو بچانے کیلئے میٹرو ٹرین کو فلک نما کے بجائے افضل گنج تک محدود کردیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشن ریڈی نے کہا کہ پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کی توسیع سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوسکتا تھا لیکن حکومت نے اپنی حلیف جماعت مجلس کے کہنے پر میٹرو ٹرین کو پرانے شہر میں داخل ہونے نہیں دیا۔ مہاتما گاندھی بس اسٹیشن سے فلک نما تک میٹرو ٹرین کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار ہونے کے باوجود مجلس کے کہنے پر صرف افضل گنج تک محدود کردیا گیا ہے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ مجلسی قائدین کے اثاثہ جات اور فنکشن ہالس کو بچانے کیلئے پرانے شہر میں میٹرو ٹرین پراجکٹ پر عمل نہیں کیا گیا۔ کشن ریڈی نے کہا کہ ترقیاتی اسکیمات کے بارے میں مرکز پر الزام تراشی کا بی آر ایس کو کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ترقیاتی پراجکٹس کے بارے میں حکومت کو روانہ کردہ خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ کشن ریڈی نے 12 مختلف امور پر چیف منسٹر کو تازہ مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یادادری تک ایم ایم ٹی ایس کے دوسرے مرحلہ کو مکمل کرنے میں ریاستی حکومت سے تعاون کی خواہش کی گئی۔ ایم جی بی ایس سے فلک نما تک میٹرو ریل کے توسیعی پروگراموں پر عمل آوری کی خواہش کی گئی۔ آرمی اسکول اور سائینس سٹی کیلئے اراضی الاٹ کرنے پر بھی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کیلئے مرکز نے 1250 کروڑ جاری کئے ہیں۔ ایم جی بی ایس سے فلک نما تک میٹرو کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ منظور ہوچکی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کی نگرانی میں ایل اینڈ ٹی سے معاہدہ کیا گیا لیکن ریاستی حکومت میٹرو ریل کی توسیع میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے پرانے شہر کو میٹرو پراجکٹ سے محروم رکھنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے بی جے پی پر تنقید قابل قبول ہے لیکن زیر التواء پراجکٹس کے بارے میں الزام تراشی درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کی عادت بن چکی ہے کہ وہ جھوٹ اور الزام تراشی کا سہارا لیتے ہیں۔ دلت طلبہ کی فہرست مرکزی حکومت کو روانہ نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں جاریہ تعلیمی سال دلت طلبہ اسکالر شپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ تلنگانہ عوام محسوس کررہے ہیں کہ بی آر ایس حکومت کی برقراری سے ریاست کو نقصان ہوگا۔ کشن ریڈی نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ میں پراجکٹس کی تکمیل کیلئے ہر ممکن تعاون کررہی ہے۔ر