پریاگ راج میں چکن گنیا کی وبا ، 258 معاملات

   

پریاگ راج : شہر کے صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اتر پردیش کے پریاگ راج میں شہری علاقوں میں وبا کے زیادہ ہونے کی وجہ سے چکن گونیا کے 258 معاملات درج ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 258 معاملات میں سے 255 شہری علاقوں میں درج ہوئے جبکہ باقی تین دیہی علاقوں میں ہے۔ ضلع ملیریا افسر (پریاگ راج) اے کے سنگھ نے کہا، یہ پہلا موقع تھا جب چکن گنیا کے معاملات شہر میں شہری امراض کی نگرانی کے پورٹل پر درج ہوئے تھے چونکہ پچھلے دو مہینوں سے اس وائرس کا بہت زیادہ خطرہ تھا، یہ کچھ مخصوص شہری علاقوں میں پھیل رہا ہے۔ شہر کے مغربی علاقوں کے آٹھ علاقے جن میں کالندی پورم، منڈیرا، سلیمسرائے، ٹی پی نگر اور ملحقہ علاقے شامل ہیں، پہلے ہی محکمہ صحت کی نظر میں ہیں۔ ڈی ایم او نے کہا چکن گنیا انسانوں میں اس وقت منتقل ہوتا ہے جب متاثرہ مادہ مچھر انہیں کاٹتے ہیں۔ عام طور پر اس میں شامل مچھر ایڈیس ایجپٹی اور ایڈیس البوپکٹس ہیں۔ یہ دونوں اقسام ڈینگی سمیت دیگر مچھروں سے پیدا ہونے والے وائرس بھی منتقل کرسکتی ہیں۔
وہ دن کی روشنی کے اوقات میں کاٹتے ہیں، حالانکہ صبح سویرے اور دوپہر کے آخر میں سرگرمی عروج پر ہوسکتی ہے۔ سینئر میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر انوپم دویدی نے کہا چکن گنیا کے پھیلنے کے دوران تحفظ کے لیے، ایسے لباس کا مشورہ دیا جاتا ہے جو دن میں کاٹنے والے مچھروں سے جلد کی نمائش کوکم کرتے ہیں۔ متاثرہ افراد مچھر کے کاٹنے کے بعد تین سے سات دن کے اندر علامات ظاہر کرتے ہیں۔ وائرس شدید، ذیلی، یا دائمی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ زیادہ تر مریض1 سے 2 ہفتوں میں بہتر ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ مہینوں تک جوڑوں اور پٹھوں میں درد کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مریضوں میں بخار، جوڑوں کا درد اور جلد پر خارش سمیت علامات کا ایک مجموعہ تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ صحت کے ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے، روک تھام کے لیے ایک فعال نقطہ نظر کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس میں خود کو ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچانا شامل ہے، جو بنیادی طور پر مچھروں سے پھیلتی ہیں۔ اس کے علاوہ افرادکو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جیسے کہ مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی نمائش کو کم کرنے کے لیے پوری آستین والی قمیضیں پہنیں اور ایک اضافی حفاظتی اقدام کے طور پر مچھر بھگانے والی دوا کا استعمال کریں۔