نئی دہلی: کانگریس نے اتر پردیش کے رام پور میں پولیس فائرنگ میں ایک دلت نوجوان کی موت پر آج گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور متاثرہ کے خاندان کو فوری مالی مدد دینے کا مطالبہ کیا۔کانگریس شیڈیولڈ کاسٹ ڈپارٹمنٹ کے صدر راجیش للوتھیا نے آج یہاں جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اتر پردیش میں رام پور کے سلائی باڑہ گاؤں کے ایک پارک میں بابا صاحب امبیڈکر کا بورڈ لگانے کے درمیان پولیس کو دلتوں پر گولی چلانے کی اجازت دی گئی، جس میں دلت نوجوان سومیش (17) کی موت ہوگئی۔ یہ طالب علم دسویں بورڈ کا امتحان دے کر گھر واپس جا رہا تھا تبھی اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔للوتھیا نے کہا کہ سومیش کی موت کے حالات کو دیکھتے ہوئے اہل خانہ اور مقامی لوگ اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پولیس نے شواہد کو چھپانے کے لیے کل سومیش کی آخری رسومات ادا کردیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2020 میں اتر پردیش پولیس نے ہاتھرس میں عصمت دری کی متاثرہ دلت لڑکی کے خلاف ایسی ہی کارروائی کی تھی۔کانگریس کے لیڈر نے اتر پردیش حکومت پر دلتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حالیہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( این سی آر بی ) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2022 میں ملک میں دلتوں کے خلاف مظالم اور جرائم کے کل 57,428 کیس صرف اتر پردیش میں رجسٹرڈ تھے ۔ یہ ملک میں دلتوں کے خلاف ہونے والے کل مظالم کا 28 فیصد ہے ۔ پہلے ہاتھرس اور اب رام پور میں جو کچھ ہوا اس کے باوجود ریاست میں ایس سی اور ایس ٹی پریوینشن آف ایٹروسیٹی ایکٹ کو سختی سے نافذ کرنے کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔