بالآخر مرکزی حکومت نے پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میںاضافہ کرہی دیا ۔ فی لیٹر تین روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد کچھ مقامی ٹیکسیس میں بھی اضافہ کے ساتھ قیمتیںاور بھی بڑھ جائیں گی ۔ مرکزی حکومت گذشتہ چند دنوںسے تیل کمپنیوں کو ہونے والے نقصانات کا بارہا تذکرہ کرتے ہوئے قیمتوں میںاضافہ کی راہ ہموار کر رہی تھی اور یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوںمیں لگاتار اضافہ کی وجہ سے تیل مارکٹنگ کمپنیوں کو یومیہ ایک ہزار کروڑ روپئے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مشرق وسطی بحران کا بارہا تذکرہ کرتے ہوئے مہنگائی کا جواز پیش کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی تھی ۔ پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی کرنے کے مشورے دئے جا رہے تھے ۔ کھانے میں بھی تیل کے کم استعمال کا درس دیا گیا تھا ۔ سارا ماحول پیدا کرتے ہوئے ایک طرح سے عوام کو پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے ذہنی طور پر تیار کرنے کی مہم چلائی جارہی تھی اور آج فیول کی قیمتوںمیںفی لیٹر تین روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گذشتہ دنوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ کئی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ گئی ہیں۔ کمرشیل گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ کردیا گیا تھا جس کے نتیجہ میںکھانے پینے کی کئی اشیاء مہنگی ہوگئی تھیں اور کئی افراد کا روزگار بھی اس کے نتیجہ میں متاثر ہوگیا تھا ۔ سپلائی کم ہونے کے نتیجہ میں بھی مشکلات کا عوام ہی کو سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب مرکزی حکومت نے عوام پر بوجھ منتقل کردیا ہے اور تیل کمپنیوں کی مالی حالت کو مستحکم کرنے کی کوشش کا دعوی کیا جا رہا ہے ۔ عالمی مارکٹ میں اتھل پتھل اور خام تیل کی قیمتوں میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے تاہم مرکزی حکومت متبادل انتظامات کرتے ہوئے اس بوجھ کو خود برداشت کرسکتی تھی جو اس نے نہیں کیا اور عوام پر ہی بوجھ کو منتقل کردیا گیا ۔ اب مہنگائی کی ایک نئی لہر شروع ہوگی ۔ عوام کی روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اس اضافہ کی وجہ سے اثر لازمی طور پر دکھائی دے گا ۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی ایک بار پھر سے بڑھنے لگیں گی ۔
مرکزی حکومت کی جانب سے بارہا یہ کہا جاتا رہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میںاضافہ کی وجہ سے تیل مارکٹنگ کمپنیوں کو نقصان ہو رہا تھا ۔ حکومت یہ واضح نہیں کر رہی ہے کہ جس وقت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت فی بیاریل 60 ڈالر یا اس سے کچھ زیادہ تھی اس وقت تیل کمپنیوں کو یومیہ کتنے کروڑ روپئے کا فائدہ ہو رہا تھا ۔ تیل کمپنیوں نے ایک طویل وقت تک کم قیمت پر تیل خریدا اور مہنگی قیمت پر ملک کے عوام کو فروخت کیا ۔ حکومت کی جانب سے بھی اکسائز ڈیوٹی اور دیگر محاصل عائد کرتے ہوئے اپنے خزانہ کو بھرنے میںکوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ جس وقت عالمی مارکٹ میں قیمتیں کم تھیں اس وقت فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا گیا اور اب چند ہفتوں سے قیمتوںمیںاضافہ ہو ا ہے تو اس کا بوجھ راست عوام پر منتقل کردیا گیا ہے ۔ ملک میں مہنگائی کا پہلے ہی سے سلسلہ چل رہا ہے ۔ اشیائے خور د و نوش بھی مہنگی ہونے لگی ہیں۔ دو دن قبل ہی دودھ کی قیمتوں میں بھی فی لیٹر دو روپئے کا اضافہ کردیا گیا تھا ۔ اسی طرح خوردنی تیل کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ کم سپلائی ہونے کی وجہ سے دوسری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اب فیول کی قیمتوں میںاضافہ کی وجہ سے ضرورت زندگی کی ہر شئے کی منتقلی اور ٹرانسپورٹ مہنگا ہوگا اورا س کا اثر قیمتوں پر پڑیگا ۔ لازمی بات یہ ہے کہ جو قیمتیں بڑھیں گی وہ عوام سے ہی وصول کی جائیں گے ۔ اس طرح ہر صورت میں ملک کے عوام ہی ان قیمتوں سے متاثر ہونگے اور ان کا گھریلو بجٹ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا ۔
ہندوستان ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے تاہم یہ ترقی اسی وقت دیرپا ثابت ہوسکتی ہے جب ملک کے عوام کی معیشت مستحکم ہو ۔ عوام پر مسلسل مہنگائی کا بوجھ عائد کرتے ہوئے ان کی معیشت کو کمزور کیا جا رہا ہے ۔ عوام کا بجٹ متاثر ہو کر رہ گیا ہے ۔ گھریلو اخراجات میں لگاتار اضافہ ہونے لگا ہے ایسے میں عوام کی حالت اور بھی ابتر ہوجا ئے گی ۔ حکومت نے صرف تیل کمپنیوں کا نقصان ذہن نشین رکھا ہے ملک کے تقریبا دیڑھ سو کروڑ عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کی اس نے کوئی پرواہ نہیں کی ہے ۔ حکومت کا یہ فیصلہ عوام مخالف ہے اور اس کے نتیجہ میں پہلے سے ہی مسائل کا شکار عوام اور بھی مشکلات کا شکار ہوجائیں گے ۔