ووٹر لسٹیں پڑھی گئی نا فارم دئیے گئے ، حکام کی شدید لاپرواہی کا پردہ فاش ، عوام میں تشویش
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی SIR کے تحت ناخواندہ اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے وارڈ میٹنگس انعقاد کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے ۔ لیکن اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری میں انتخابی حکام نے ان اہم اجلاسوں کو ایک رسمی کھیل اور مذاق بنا کر رکھ دیا ۔ پولنگ اسٹیشنس پر ووٹرس کے نام پڑھ کر سنانے کے بجائے حکام نے فوٹو کھینچوائے ، چائے پی ، بسکٹ کھائے اور روانہ ہوگئے ۔ انتخابی حکام کی غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی اور لاپرواہی کی وجہ سے ووٹر بیداری مہم کو شدید نقصان پہونچا ہے ۔ اعلیٰ حکام نے 20,20 پولنگ اسٹیشنس کو ایک کلسٹر بناکر میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ تینوں اضلاع کے 10,000 سے زائد مراکز کے بجائے محض 500 مقامات پر برائے نام میٹنگس کی گئی جو بمشکل دو سے تین گھنٹے ہی چل سکیں ۔ جب پولنگ اسٹیشنس پر موجود شہریوں نے بی ایل اوز سے ڈرافٹ لسٹ پڑھنے کی درخواست کی تو حکام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نام نہیں پڑھ سکتے ۔ آپ خود فہرست چیک کرلیں ۔ نئے ووٹر کے اندراج ( فارم ۔ 6 ) ، غلطیوں کی درستگی ( فارم ۔ 8 ) کے لیے جب ووٹرس نے فارمس مانگے تو انتخابی عملے نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کردئیے کہ ان کے پاس فارمس موجود نہیں ہیں اور بی ایل اوز غائب ہیں ۔ ضلع حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں انتخابی انتظامیہ کا ابتر حال اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ ووٹرس کو نوٹس دئیے بغیر ہی ان کی چھان بین کا عمل شروع کیا جارہا ہے ۔ کئی علاقوں میں بی ایل اوز گھروں کو پہونچکر نوٹس نہیں دے رہے ہیں ۔ جمعہ اور ہفتہ سے ووٹرس کو نوٹس دئیے بغیر ان کی چھان بین اور انکوائری شروع کی جارہی ہے ۔ ووٹرس کو فون کر کے ان کے نام ووٹر نوٹس جاری ہونے اور فلاں مقام سے حاصل کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے جو انتخابی حکام کی سنگین لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اسمبلی حلقہ جات مشیر آباد ، عنبر پیٹ ، صنعت نگر ، خیریت آباد اور پرانے شہر کے متعدد اسمبلی حلقوں میں نوٹس کی تقسیم کا عمل کافی سست چل رہا ہے ۔۔ 2/m/b